بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

’’میرے کپتان۔۔۔ کہاں ہے نیا پاکستان‘‘ پشاور میٹرو 8 ارب سے 86 ارب تک جا پہنچی، منصور علی خان کے اپنے ٹی وی پروگرام میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف اینکر پرسن و صحافی منصور علی خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین صادق اور امین نہیں رہے لیکن پھر بھی تاحیات نااہلی کے باوجود وہ سرکاری میٹنگز اور فیصلوں میں شامل رہے تو سوال اٹھیں گے اور آوازیں گونجیں گی اور نعرے لگیں گے کہ میرے کپتان۔۔ کہاں ہے نیا پاکستان،

انہوں نے اپنے پروگرام میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں تبدیلی کی مثالیں دی جاتی ہیں، کے پی کے سے پہلی غیر قانونی اور غیر آئینی بھرتیوں کی ہے جہاں من پسند اور چہیتوں کی لمبی فہرست ہے لیکن مبینہ طور پر ان میں سے ایک صاحب نصراللہ خٹک جو اس وقت سیکرٹری ہے، وقار شاہ اور عطاء اللہ خان بھی ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جو سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے باوجود سابق سپیکر اسد قیصر جاتے جاتے اور مشتاق غنی آتے ہی انہی صاحب کی تقرری کا حکم نامہ جاری کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسی ترقیاں، تقرریاں اور تعیناتیاں جن پر سپریم کورٹ کے نوٹس کو بھی خاطر میں نہیں لایا جاتا، آج خیبرپختونخوا کی عوام ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی یہی پوچھ رہا ہے کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان، وزیراعظم ہاؤس کی 102 گاڑیوں اور 4 ہیلی کاپٹرز کی نیلامی کا اعلان کیا جاتا ہے یہی نہیں بھینسوں کو بھی نیلام کیا گیا اور ایک متحرک اشتہاری مہم چلائی گئی سادگی کی یہ مہم قابل تحسین لیکن کے پی کے سے ہی دوسری مثال ہے، پشاور میں کھڑی کروڑوں مالیت کی سرکاری گاڑیاں، ان گاڑیوں میں لگژری گاڑیاں بھی شامل ہیں، جن کی خرید پر سرکاری خزانے سے ہی رقم خرچ کی گئی، عوام کے پیسوں سے خریدی گئی یہ گاڑیاں کیوں نیلام نہیں کی جا سکتیں، یہ گاڑیاں اس وقت نیلامی کے لیے تیار ہیں لیکن تمام گاڑیاں اس سادگی اور کفایت شعاری کی مہم میں شامل نہ کیے جانے پر سراپا احتجاج ہیں وہ اپنی نظراندازی پر سوال کر رہی ہیں کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان،

منصور علی خان نے کہا کہ کے پی کے سے تیسری مثال پشاور میٹرو کی ہے، جس کے بارے میں اسد عمر صاحب نے پرویز رشید صاحب کو چیلنج کیا تھا کہ ہم میٹرو آٹھ ارب روپے میں بنا کر دیں گے، آپ کی جماعت لاہور کی میٹرو بس سروس کو جنگلہ بس سروس جیسے طنزیہ ناموں سے پکارتی رہی جبکہ آج پشاور میٹرو 8 ارب سے 86 ارب روپے تک جا پہنچی ہے لیکن تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ یہ پشاور میٹرو اس وقت منتظر ہے کہ جہاں باقی منصوبوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہو رہا ہے وہیں اس کا بھی آڈٹ کیا جائے اگر ایسا نہ ہوا تو انگلیاں اٹھیں گی کہ میرے کپتان کہاں ہے نیا پاکستان۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…