جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دوسری جنگ عظیم میں شدید بمباری سے پیدا ہونیوالی شاک ویو کس ملک کے اوپر ایک ہزار کلومیٹر تک محسوس کی گئی تھی؟تحقیقی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

datetime 29  ستمبر‬‮  2018 |

لندن(سی پی پی)ایک نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں اتحادی افواج کی جانب سے جو بم برسائے گئے وہ اتنے طاقتور تھے کہ ان سے کر ہوائی کو نقصان پہنچا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملوں نے قصبوں کو راکھ اور ملبے کا ڈھیر بنا دیا لیکن تحقیق سے معلوم چلا ہے کہ بم گرنے سے پیدا ہونے والی شاک ویو برطانیہ کے اوپر ایک ہزار کلومیٹر تک محسوس کی گئی تھی۔

برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کے کرس سکاٹ کا کہنا ہے جب مجھے یہ معلوم چلا ہے تو میں ہکا بکا رہ گیا۔ ہر فضائی حملے سے 300 آسمانی بجلی گرنے کے برابر توانائی پیدا ہوئی۔اس نئی تحقیق سے امید کی جا رہی ہے کہ یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ قدرتی فورسز جیسے آسمانی بجلی، آتش فشاں اور زلزلے کیسے کر ہوائی کو متاثر کرتی ہیں۔انھوں نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ یورپ میں اتحادی فوج کی جانب سے 152 فضائی حملوں بشمول برلن اور نارمنڈی پر فضائی حملوں کے دوران کر ہوائی میں الیکٹرون میں کیسے تبدیلی آئی۔اتحادی افواج کی جانب سے دوری جنگ عظیم میں فضائی حملے 1942 میں شروع ہوئے اور اس سے جو تباہی ہوئی اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ جرمنی کے شہر جیسے ڈریسڈن اور ہیمبرگ ملبے اور راکھ کے ڈھیر بن گئے۔ریڈیو ریسرچ سینٹر کے ریکارڈ کے مطالعے سے معلوم چلا کہ جب بھی بم گرا اس وقت ایلکٹرون میں کمی واقع ہوئی جس سے کر ہوائی کی گرماہٹ میں اضافہ ہوا۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگرچہ سلو سے سینکڑوں میل دور بمباری ہوتی تھی لیکن اس علاقے کے کر ہوائی میں الیکٹرون میں کمی واقع ہوئی۔تاہم کرس سکاٹ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بمباری کے باعث کر ہوائی میں اضافہ اور گرمی میں اضافہ معمولی تھا۔کر ہوائی میں تبدیلی صرف اس وقت تک رہتی تھی جب تک بمباری کے گرم اثرات ختم نہیں ہو جاتے تھے۔کر ہوائی سے ہماری ریڈیو مواصلات، جی پی ایس نظام، ریڈیو ٹیلی سکوپس اور یہاں تک کہ موسمی نظام کو جاننا متاثر ہو سکتا ہے۔کرس سکاٹ کہتے ہیں اگر کر ہوائی کو مکمل طور پر سمجھنا ہے تو کر ہوائی کے حوالے سے یہ تحقیق بہت اہم ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک ہمارے پاس یہ معلومات ہیں کہ شمسی توانائی سے کر ہوائی متاثر ہوتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ جاننے کی ضرورت ہے۔یہ تازہ تحقیق یورپی جیو سائنسز کے جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…