بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

تین سو کیا تین سو کروڑ دوگے تو بھی ۔۔۔! اپنی ہی بنائی ویڈیو پرانعام، پشاورمیں ٹریفک وارڈن نے حکام کو بیوقوف بنادیا، حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

پشاور (آئی این پی ) ٹریفک وارڈن نے شہری سے رشوت لینے سے انکار کی اپنی ہی بنائی ہوئی ویڈیو جاری کرکے پولیس چیف سے انعام حاصل کرلیا۔پشاور میں ٹریفک وارڈن کی جانب سے رشوت نہ لینے کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد پولیس چیف نے وارڈن کو انعام اور سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔

رنگ روڈ پر ٹریفک پولیس اہلکار نے آصف رضا نامی ایک شخص کی گاڑی کو روکا اور گاڑی پر لگی پولیس فلیش لائٹ کو اتار لیا۔ڈرائیور نے ٹریفک وارڈن کو رشوت دینے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکار نے رشوت لینے اور پولیس فلیش لائٹ واپس دینے سے انکار کردیا۔گاڑی پر لگی فلیش لائٹ قبضے میں لینے کی ویڈیو بنانے کے دوران جب ڈرائیور نے 300 روپے رشوت دینی چاہی تو وارڈن آصف رضا کو پتہ تھا کہ ویڈیو بن رہی ہے، اس لیے اس نے ڈائیلاگ بھی مارے کہ 300 کیا تین سو کروڑ دوگے تو بھی نہیں لوں گا۔یہ ویڈیو کوئی اور نہیں بلکہ پولیس والے خود بنا رہے تھے جب کہ یہ ویڈیو مذکورہ ٹریفک وارڈن کا ساتھی بنا رہا تھا یعنی ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران رشوت لینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پولیس حکام کے مطابق رشوت دینے والے شہری کا تعلق ابیٹ آباد سے تھا جسے مہمان ہونے کے ناطے وارننگ دے کر چھوڑ دیا گیا ہے۔دوسری جانب سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے ٹریفک وارڈن کو پانچ ہزار روپے اور تعریفی سرٹیفکیٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ گاڑیوں اور موٹرسائیکلز پر لگی لیزر اور فلیش لائٹس کے خلاف آپریشن جاری ہے اور تین دنوں کے دوران 300 سے زیادہ مختلف نوعیت کی لائٹس قبضے میں لی گئی ہیں۔ٹریفک پولیس کے مطابق کسی بھی چالان کی وڈیو ریکارڈ کیلئے بنائی جاتی ہے اور بعد میں جاری کر دی جاتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…