منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کاایران سے سرحدپارگولہ باری اورفائرنگ کے واقعات روکنے کامطالبہ

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

چاغی (نیوزڈیسک)پاکستان اور ایران کے سرحدی حکام کے درمیان ہونے والے مشترکہ اجلاس میں منشیات و انسانی سمگلنگ کی روک تھام کےلئے سخت اقدامات،سرحدوں پرسیکیورٹی گشت میں اضافہ، غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے افراد کے معاملات ، دہشت گردی کے واقعات کو روکنے اوراس سلسلے میں مشترکہ طور پر کاروائی کرنے کے امور پر غور و خوض کیاگیا جبکہ پاکستانی حکام نے ایرانی حکام کے ساتھ سرحد پار سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کامعاملہ اٹھاتے ہوئے اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیاجس پر ایرانی حکام نے آئندہ ایسے واقعات کا تدارک کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو یہاں سرحدی شہرتفتان میں پاک ایران سرحدی امور کے متعلق دوطرفہ سرکاری حکام کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی سیکرٹری داخلہ طارق زہری، ڈی سی چاغی سیف اللہ کیتھرانی، ڈی سی واشک خان محمد بنگلزئی، ڈی سی پنجگور محراب شاہ، ڈی سی کیچ ممتاز علی بلوچ، اے ڈی سی گوادر محمد قاسم، لیفٹیننٹ کرنل اشتیاق احمد، ونگ کمانڈر تفتان رائفلز جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے کرنل حسین ازما ڈپٹی مرزبان زاہدان میجر سید محمود حسین، محمد شمسی کانی ڈپٹی مرزبان سراوان، کیپٹن محمد علی میر شکاری، میجر ایوب نوازی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس ایک روز تک جاری رہا، جس میں منشیات و انسانی سمگلنگ کی روک تھام کرنے کےلئے سخت اقدامات، بارڈر ایریا میں سیکیورٹی گشت میں اضافہ، غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے، گوادر میں سمندری راستوں سے انسانی سمگلنگ روکنے، دہشت گردی کے واقعات کو روکنے اور مشترکہ طور پر کاروائی کرنے کے امور پر غور و خوض ہوا، پاکستانی حکام نے ایرانی حکام سے کہاکہ وہ اپنی سرحدی حدود سے پاکستانی حدود میں گولہ باری اور فائرنگ روکنے کےلئے ٹھوس اقدامات کریں جبکہ ایرانی حکام نے یقین دلایا کہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک کیا جائے گا۔ اجلاس کے موقع پر سرحدی شہر تفتان میں سیکیورٹی انتہائی سخت رہی اور مختلف اضلاع کے ڈی سی اور دیگر حکام ایک روزہ اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد واپس اپنے اپنے متعلقہ اضلاع کو روانہ ہو گئے۔ خیال رہے کہ چند ہفتے قبل بھی ایران کے شہر زاہدان میں بھی جوائنٹ بارڈر کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں پاکستانی حکام نے بھی شرکت کی تھی۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…