پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پنجاب کے میٹرو بس منصوبے اور پشاور کے میٹرو میں فرق کیا ہے؟ پشاور کا 8 ارب کا منصوبہ 67 ارب تک کیسے پہنچ گیا؟

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں وزیر اطلاعات فواد چودھری سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پشاور میٹرو منصوبے میں سبسڈی نہیں ہوگی، تحریک انصاف نے آج تک پشاور میٹرو کے حوالے سے جو دعوے کیے ہیں ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا، پہلے کہا کرتے تھے کہ پشاور میٹرو بس منصوبہ بننا ہی نہیں چاہیے،

معروف صحافی نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ اگر پراجیکٹ بنایا تو میں خود جاکر احتجاج کروں گا لیکن پھر اس پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا، اب یہ کہا گیا کہ ہم صوبے میں بیرونی امداد سے کوئی پراجیکٹ نہیں بنائیں گے ایسا پنجاب میں بنتا ہے لیکن پھر ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے پیسے لے کر بنایا۔ اس پراجیکٹ کے لیے 8 ارب کی بات کرتے تھے لیکن پھر اس پراجیکٹ کی لاگت 49 ارب تک لے آئے، اب یہ پراجیکٹ 67 ارب تک پہنچ گیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ پشاور میٹرو کے حوالے سے آج تک کوئی دعویٰ پورا نہیں ہوا، آج پھر آپ سبسڈی کی بات کر رہے ہیں تو کیا آپ مکمل بریفنگ لے کر یہ بات کر رہے ہیں، جس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ یہ ایشین بینک کی فزیبلٹی ہے، ان کا پراجیکٹ ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کہتا ہے کہ ہمیں اس میں سبسڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی، یہاں پر کرایہ 20 روپے ہے جبکہ وہاں پر جو کرایہ ہے وہ 55 روپے ہے۔ فواد چودھری نے مزید کہا کہ وہاں پر حکومت نے خود بسیں خریدی ہیں جبکہ یہاں پر بسیں کرائے پر چل رہی ہیں۔ پشاور میں میٹرو پورے علاقے کوکور کرتی ہے جبکہ یہاں چند علاقوں کوکور کرتی ہے، اس موقع پر پروگرام کے میزبان شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ جب 49 ارب تک رقم پہنچی تو پرویز خٹک یہ کہہ کر دفاع کرتے رہے کہ بسیں اپنی ہوں گی اور سٹاپ زیادہ ہوں گے لیکن بروقت نہ بنانے کی وجہ سے لاگت 67 ارب تک پہنچ گئی۔ اس کے جواب میں وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ میں تو دستاویزی ثبوتوں پربات کر رہا ہوں اگر دستاویزی ثبوت غلط ثابت ہوں گے اور سبسڈی ہوگی توپھر ہم مل کر اس پر تنقید کریں گے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…