منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

افغان شہریوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا چارلی چپلن

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) چارلی چپلن کا کردار لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرنے کے حوالے سے مشہور ہے، لیکن آج کل ایک افغان چارلی چپلن کی بھی دھوم ہے، جو جنگ زدہ ملک میں لوگوں میں خوشیاں تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مقیم ایک اسٹینڈ اَپ کامیڈین کریم آسر چارلی چپلن کا روپ دھارے لوگوں کے چہروں پر ہنسی لانے کے لیے

جگہ جگہ پرفارم کرتے ہیں۔ ان کا حلیہ بالکل چارلی چپلن کی طرح ہوتا ہے، یعنی سائز سے بڑے جوتے، ڈھیلی ڈھالی پتلون، ہاتھ میں چھڑی اور کالی ٹوپی، جس کی وجہ سے انہیں ‘افغان چارلی چپلن’ کا لقب دیا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق کریم آسر کا کہنا ہے کہ ‘میرا مقصد بالکل سادہ ہے، میں چاہتا ہوں کہ افغان شہریوں کے چہروں پر بھی مسرت ہو’۔ کریم آسر کا کہنا تھا کہ ‘چارلی چپلن کے دیوانے پوری دنیا میں ہیں کیونکہ وہ لوگوں کی مدد کرتا ہے، اُن کے دکھوں کا مداوا کرتا ہے اور ان کی مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اور میں بھی یہی کرتا ہوں‘۔ آسر کی ابتدائی زندگی ایران میں گزری، جہاں وہ چارلی چپلن کے پروگرام دیکھا کرتے تھے جس سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ آسر کے اہل خانہ افغانستان میں دہشت گردی کا نشانہ بنے اور وہ گھر چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے روپوش بھی ہوگئے لیکن جب اہل خانہ گھر لوٹے تو انہوں نے باقاعدہ چارلی چپلن کی طرح میک اَپ کرکے روپ دھارا اور سب کو ہنسانے اور ڈر و خوف کو ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لیکن اس کام میں ان کے والدین نے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور انہیں ان سب سے دور رہنے کی ہدایت کی۔ کریم آسر کو کابل کے مختلف علاقوں میں پرفارم کرنے کی وجہ سے متعدد بار عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملیں اور کئی بار وہ نشانہ بھی بنائے گئے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنے مقصد کے لیے پر عزم رہے۔ ان کا کہنا ہے، ‘میں لوگوں کو موقع فراہم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے مسائل بھول جائیں جیسے دہشت گردی، تنازعات اور سیکیورٹی کے مسائل’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘خودکش حملوں اور شدت پسندی کی فضا نے افغان لوگوں کی خوشیاں دور کردی ہیں لیکن ان کی پرفارمنس سے ان کے چہرے کِھل سے جاتے ہیں جس کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہیں گے’۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…