اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی نے بھری عدالت میں متاثرہ شخص کو تھپڑ مار دیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،سی پی پی)سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی سماعت کے دوران وکیل صفائی نے عدالت میں سانحہ کے متاثرہ شخص کو تھپڑ مار دیاجس پر متاثرین اور وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔نجی ٹی وی  کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے،دوران سماعت وکیل صفائی نے سانحہ کے متاثرہ شخص محسن رسول کو تھپڑ مار دیا۔

جس پر متاثرین اور وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا،ناخوشگوار واقعہ ایس ایس پی طارق عزیز پر جرح کے دوران کے دوران پیش آیا۔متاثرین کے وکلا کا کہناتھا کہ انصاف کیلئے آئے تھے مگر ہمیں تھپڑمارے جا رہے ہیں،متاثرین نے واقعہ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس واقعہ کا نوٹس لیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں گزشتہ روز انسداد دہشتگردی عدالت میں عوامی تحریک کے 3 چشم دید زخمی گواہان محمد علی، منیر احمد اور ادارہ منہاج القرآن کے سکیورٹی انچارج امتیاز حسین اعوان پر جرح ہوئی، امتیاز حسین اعوان نے کہا کہ اس وقت کے ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار، ڈی ایس پی آفتاب پھلروان اور ایس ایچ او فیصل ٹاؤن رضوان قادر ہاشمی نے گوشہ درود کی طرف آنے والے افراد پر تشدد کا حکم دیا، یہ حکم ملتے ہی اہلکار نہتے کارکنوں پر ٹوٹ پڑے، شیلنگ کی ،اندھا دھند لاٹھیچارج کیا اور بے رحمی کے ساتھ کارکنوں پر ڈنڈے برسائے‘فائرنگ بھی کی گئی۔رانا عبدالجبار کے حکم پر پولیس کی ایک بھاری نفری نے ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے استقبالیہ پر ہلہ بولا اور ایس ایچ او فیصل ٹاؤن رضوان قادر ہاشمی نے میرے سر پر ڈنڈے مارے اور مجھے زخمی کر دیا، استقبالیہ کی میز پر موجود موبائل فون اور وزیٹرز کے شناختی کارڈ اٹھالیے، واک تھرو گیٹ کو ڈنڈے اور ٹھڈے مار کر توڑ دیا، پولیس کی بھاری نفری نے مرد استقبالیہ سے ملحقہ خواتین کے استقبالیہ پر بھی ہلہ بولا۔

وہاں پر بھی لوٹ مار کی، وہاں پر موجود بزرگ شہریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا،انہوں نے بتایا پولیس والے خواتین کے پرس بھی اٹھا کر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی نفری توڑ پھوڑ کرتی ہوئی مرکزی سیکرٹریٹ کے اندر گھس گئی، وہاں بھی اندھا دھند فائرنگ کی اور استقبالیہ پر پڑی ہوئی چیزیں توڑیں، لاٹھی چارج کیا ،وہاں پر موجود واکی ٹاکی اور دیگر سامان اٹھا کر ساتھ لے گئے۔ امتیاز حسین اعوان نے کہا کہ مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زخمی حالت میں اغواء کر لیا گیا اور مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ڈی ایس پی آفتاب پھلروان نے میاں افتخار کے سر پر ڈنڈے برسائے، سعید بھٹی رضوان قادر ہاشمی کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے مستغیث جواد حامد، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، بدرالزمان چٹھہ ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ و دیگر عدالت میں موجود تھے۔ گواہان محمد علی اور منیر احمد نے بھی جرح کے دوران بتایا کہ پولیس نے بلااشتعال کارکنوں پر اور ادارہ منہاج القرآن پر ہلہ بولا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…