ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ان 3پولیس افسران نے تشدد، شیلنگ، فائرنگ کا حکم دیا،سروں پراہلکاروں نے ڈنڈے مارے ‘مجھے اغواء کیا‘سانحہ ماڈل ٹاؤن کے چشم دید گواہ کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 13  ستمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (سی پی پی ) سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس کے سلسلے میں گزشتہ روز انسداد دہشتگردی عدالت میں عوامی تحریک کے 3 چشم دید زخمی گواہان محمد علی، منیر احمد اور ادارہ منہاج القرآن کے سکیورٹی انچارج امتیاز حسین اعوان پر جرح ہوئی، امتیاز حسین اعوان نے کہا کہ اس وقت کے ڈی آئی جی آپریشن رانا عبدالجبار، ڈی ایس پی آفتاب پھلروان اور ایس ایچ او فیصل ٹاؤن رضوان قادر ہاشمی

نے گوشہ درود کی طرف آنے والے افراد پر تشدد کا حکم دیا، یہ حکم ملتے ہی اہلکار نہتے کارکنوں پر ٹوٹ پڑے، شیلنگ کی ،اندھا دھند لاٹھی چارج کیا اور بے رحمی کے ساتھ کارکنوں پر ڈنڈے برسائے‘فائرنگ بھی کی گئی۔رانا عبدالجبار کے حکم پر پولیس کی ایک بھاری نفری نے ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے استقبالیہ پر ہلہ بولا اور ایس ایچ او فیصل ٹاؤن رضوان قادر ہاشمی نے میرے سر پر ڈنڈے مارے اور مجھے زخمی کر دیا، استقبالیہ کی میز پر موجود موبائل فون اور وزیٹرز کے شناختی کارڈ اٹھالیے، واک تھرو گیٹ کو ڈنڈے اور ٹھڈے مار کر توڑ دیا، پولیس کی بھاری نفری نے مرد استقبالیہ سے ملحقہ خواتین کے استقبالیہ پر بھی ہلہ بولا، وہاں پر بھی لوٹ مار کی، وہاں پر موجود بزرگ شہریوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا،انہوں نے بتایا پولیس والے خواتین کے پرس بھی اٹھا کر لے گئے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی نفری توڑ پھوڑ کرتی ہوئی مرکزی سیکرٹریٹ کے اندر گھس گئی، وہاں بھی اندھا دھند فائرنگ کی اور استقبالیہ پر پڑی ہوئی چیزیں توڑیں، لاٹھی چارج کیا ،وہاں پر موجود واکی ٹاکی اور دیگر سامان اٹھا کر ساتھ لے گئے۔ امتیاز حسین اعوان نے کہا کہ مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد زخمی حالت میں اغواء کر لیا گیا اور مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ڈی ایس پی آفتاب پھلروان نے میاں افتخار کے سر پر ڈنڈے برسائے، سعید بھٹی رضوان قادر ہاشمی کی فائرنگ سے زخمی ہوئے۔

انسداد دہشت گردی عدالت نے مستغیث جواد حامد، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ، بدرالزمان چٹھہ ایڈووکیٹ، شکیل ممکا ایڈووکیٹ و دیگر عدالت میں موجود تھے۔ گواہان محمد علی اور منیر احمد نے بھی جرح کے دوران بتایا کہ پولیس نے بلااشتعال کارکنوں پر اور ادارہ منہاج القرآن پر ہلہ بولا ،مزید سماعت آج ہو گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…