بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے اسکینڈلز میں ملوث افراد سے ٹیکس کی مد میں 15 کیسز میں سے 6 ارب 20 کروڑ کی رقم وصول کرلئے گئے 

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)ایف بی آر نے پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے اسکینڈلز میں ملوث افراد سے ٹیکس کی مد میں 15 کیسز میں سے 6 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم وصول کرلی ہے جبکہ 4 ارب 64 کروڑ روپے کی ریکوری ابھی باقی ہے اسلام آباد کے ا یک خاندان کے ذمہ 4 ارب 64 کروڑ روپے ٹیکس بنتا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک صرف ایک کروڑ 50 لاکھ روپے ہی جمع کراوائے ہیں

اسطرح کراچی میں ایف بی آر کی جانب سے ایک کاروباری شخصیت سے 3 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے جبکہ دوسرے شخص سے 2 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق پانامہ پیپرز آنے کے بعد ان کی تحقیقات کرنے والے حکام نے بتایا ہے کہ تقریباً 2 برس بعد ان اسکینڈلز میں ملوث افراد سے ٹیکس وصولیاں کرلی گئیں رپورٹ کے مطابق فیڈل بورڈ آف ریونیوسے موصول ہونے والے اعداد و شمار میں یہ ظاہر ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کے لارج ٹیکس پیئر یونٹ (ایل ٹی یو) نے مذکورہ افراد کے خلاف مشق کے آغاز کے بعد سے اب تک پہلی مرتبہ ٹیکس وصولی کی ہے ایف بی آر نے 15 کیسز میں سے 6 ارب 20 کروڑ روپے کی رقم وصول کی ہے جبکہ 4 ارب 64 کروڑ روپے کی ریکوری باقی ہے اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے ایک بڑے کاروباری خاندان کو 6 نوٹسز جاری کیے گئے تھے جن میں ان سے 4 ارب 60 کروڑ روپے ادا کرنے کا کہا گیا تھا تاہم ان سے اب تک صرف ایک کروڑ 50 لاکھ روپے ہی وصول ہوسکے ہیں کراچی کی ایک کاروباری شخصیت سے 3 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کراچی کے ایل ٹی یو نے یہ پورا ٹیکس وصول کیااس کے علاوہ کراچی کی ہی ایک اور کاروباری شخصیت سے 2 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا جو بھی کراچی کے ایل ٹی یو نے پورا وصول کیادیگر پیش رفت میں کراچی کے ایل ٹی یو نے شہرِ قائد کی ایک اور کاروباری شخصیت سے 35 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا

واضح رہے کہ پاناما پیپرز اسیکنڈل منظر عام پر آنے کے بعد ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے ا?ف شور کمپنیوں کے مالکان کو کْل 4 سو 44 نوٹسز جاری کیے تھے ڈان کو موصول ہونے والے دستاویزات کے مطابق 151 پاکستانیوں کو 73 کیسز میں ارسال کیے جانے والے نوٹسز موصول نہیں ہوئے تھے، جس کی وجہ غلط یا نامکمل پتہ بتائی گئی تھی اس کے ساتھ ساتھ 78 کیسز پاکستانیوں کے کوائف مکمل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں موصول نہیں ہوسکے تھے،

جبکہ 17 کیسز دیگر وجوہات کی وجہ سے رجسٹرڈ نہیں کیے گئے تھے نتیجتاً صرف 276 کیسز میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے ان افراد کو نوٹس جاری کیا گیا تھا جن کے کوائف اور گھر کے پتے مکمل تھے اور ان کے بارے میں یہ بھی تصدیق ہوچکی تھی کہ ان کی آف شور کمپنیاں موجود ہیں دوسری جانب پیراڈائز پیپرز لیکس میں 38 افراد کی نشاندہی کی گئی تھی جنہوں نے بیرونِ ملک جائیداد خریدیں، تاہم ایف بی آر کی جانب سے ان تمام افراد کو نوٹسز جاری کیا گیا جن کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…