ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

صولت مرزا کی پھانسی سے کیس ختم نہیں ہوا’ عمر شاہد

datetime 13  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) کے ای ایس سی کے مقتول مینیجنگ ڈائریکٹر شاہد حامد کے بیٹے عمر شاہد حامد نے کہا ہے کہ اس مقدمے کے دیگر ملزمان کو عدالت مفرورقرار دے چکی ہے، لہٰذا صولت مرزا کی پھانسی کے بعد اس مقدمے کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ان کا کہنا ہے کہ صولت مرزا کے اہلِ خانہ نے معافی حاصل کرنے کے لیے ان سے اور ان کی والدہ کے ساتھ متعدد مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”صولت مرزا کے اہل خانہ نے قصاص اور دیت آرڈیننس کے تحت معافی حاصل کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں اور ماضی میں کئی مواقعوں پر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔“انہوں نے بتایا ”مجھے یاد ہے کہ بہت سال پہلے ایک مرتبہ جب وہ میری والدہ کے دفتر پہنچے تھے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی حکومت کے دوران صولت مرزا کو معاف کردینے کے لیے ہمیں خوفزدہ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔“عمر شاہد نے کہا ”ایک موقع پر اس وقت کے صوبائی وزیرِ داخلہ آفتاب شیخ نے مجھے کال کرکے دھمکی دی تھی۔
مزید پڑھئے:پچاس سالہ خاتون کی 55 شادیاں

میری والدہ کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا اور ایم کیو ایم کی حکومت کے دوران انہیں اس ملازمت پر بحال نہیں کیا گیا۔ اس طرح کے دیگر بہت سے واقعات ہیں۔ یہاں تک کہ صولت مرزا کی اہلیہ نے اس سلسلے میں بیانات دیے جس میں کہا گیا تھا کہ بہت سی کوششیں کی گئی تھیں، لیکن ہماری جانب سے ان کی تردید کی گئی۔“صولت مرزا کا یہ اعتراف کہ وہ محض ایک کرائے کا قاتل تھا، کے حوالے سے عمرشاہد نے کہا کہ ”یہ کہنا کہ اس کیس میں مشتبہ افراد باقی ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ اس کیس کے بارے میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ صولت نے اسی طرح کا بیان عدالت میں 1999ئ کے دوران بھی دیا تھا، جس کی بنیاد پر الطاف حسین اور دیگر کو اس مقدمے میں مفرور قرار دیا گیا تھا۔ جیسا کہ وہ پاکستان سے مفرور ہیں، اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں صرف اس صورت میں لایا جاسکتا ہے، جبکہ وہ پاکستان واپس لوٹ آئیں، اور پاکستان کا برطانیہ کے ساتھ ملزموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ تاہم یہ مقدمہ اور ان ملزمان کے خلاف شواہد اب بھی کھلے ہوئے ہیں، لہٰذا صولت مرزا کے ساتھ اس مقدمے کے ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…