منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

’’لوگ میرا مذاق اُڑائیں گے لیکن میں اپنے ملک کیلئے صرف یہ ہی کر سکتا ہوں‘‘ دبئی میں ٹیکسی چلانے والا پاکستانی ڈیم فنڈ میں عطیہ دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اوورسیز پاکستانیوں سے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کرانے کی اپیل کی، وزیراعظم کی اس اپیل کو سن کر متحدہ عرب امارات میں ٹیکسی چلانے والے پاکستانی شہری محمد یونس فنڈ میں عطیہ دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا، عمران خان کی اپیل پر ہر کوئی ایک دوسرے بڑھ کر رقوم جمع کرانے کا اعلان کر رہا ہے،

ایسے میں دیار غیر میں محنت مزدوری کرنے والا یہ پاکستانی ڈرائیور بھی پیچھا نہ رہا، محدود آمدن ہونے کے باوجود محمد یونس نے فنڈ میں عطیہ جمع کرانے کا فیصلہ کیا، اس نے اپنی جیب سے 190 درہم اس فنڈ میں دینے کا اعلان کیا۔ اس نے ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنی معمولی سی رقم دے رہا ہوں لوگ اس پر میرا مذاق اڑائیں گے انہوں نے یہ رقم دکھائی بھی، اس موقع پر پاکستانی ڈرائیور نے کہا کہ لوگ اس فنڈ کے لیے لاکھوں کروڑوں روپے دے رہے ہوں گے لیکن میں اتنا ہی دے سکتا ہوں، اس پاکستانی ڈرائیور نے بتایا کہ اسے پندرہ تاریخ کو تنخواہ ملتی ہے لیکن وہ اپنے جیب خرچ سے پیسے نکال کر پاکستان بھیج رہا ہے یہ کہتے ہوئے یہ محب وطن پاکستانی آبدیدہ ہو گیا۔ اس نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہاکہ باہر کے لوگ جب ہماری گاڑی میں بیٹھتے تھے تو ہمیں باتیں سناتے تھے کہ ہمارا وزیراعظم چور ہے لیکن جب سے عمران خان وزیراعظم بنے ہیں ہم سے لوگوں کا رویہ تبدیل ہو گیا ہے، اس نے کہا کہ مجھے بھی وزیراعظم عمران خان سے بہت سی امیدیں ہیں۔  وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز اوورسیز پاکستانیوں سے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈ جمع کرانے کی اپیل کی، وزیراعظم کی اس اپیل کو سن کر متحدہ عرب امارات میں ٹیکسی چلانے والے پاکستانی شہری محمد یونس فنڈ میں عطیہ دیتے ہوئے آبدیدہ ہو گیا، عمران خان کی اپیل پر ہر کوئی ایک دوسرے بڑھ کر رقوم جمع کرانے کا اعلان کر رہا ہے، ایسے میں دیار غیر میں محنت مزدوری کرنے والا یہ پاکستانی ڈرائیور بھی پیچھا نہ رہا



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…