ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

زندگی میں کامیابی کے چار بڑے راز جو باس کبھی نہیں بتاتے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) پیشہ ورانہ زندگی میں قدم جمانے والے ناتجربہ کار افراد کیلئے سب سے زیادہ ضروری اپنی خامیوں کے بارے میں بے لاگ رائے ہوتی ہے۔بنا کسی لگی لپٹی کے جب کسی مخلص دوست کی جانب سے کوئی رائے سامنے آہی جائے تو پھر اکثریت دفاعی رویہ اپنا لیتی ہے اور اپنی غلطیوں کیلئے بے سروپا دلیلوں کا سلسلہ شروع کردیتی ہے۔درحقیقت سچائی تکلیف دہ تو ہوتی ہے تاہم پیشہ ورانہ زندگی کیلئے یہ بے حد ضروری ہوتی ہے۔ عام طور پر اس سچائی کو اکثریت جاننے سے محروم رہتی ہے کیونکہ براہ راست باس اپنے جونیئرز کی ترقی کیلئے ان کی غلطیوں پر پردہ ڈالتا ہے اور ان کی ترقی کو ممکن بناتا ہے جبکہ ایک سچے ہمدرد والا کردار خال خال ہی کوئی باس نبھانے پر راضی ہوتی ہے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی جونیئر یا نوآموز پیشہ ور شخص کیلئے یہ کیوں ضروری ہے کہ اسے اس کی غلطی کی نشاندہی کیوں کی جائے۔اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب آپ کو اپنی خامیوں کے بارے میں معلوم ہوگا تو ہی آپ خود کو بہتر بنا سکیں گے۔ عام طور پر ناتجربہ کار افراد کے ساتھ ہوتا یہ ہے کہ انہیں دوسروں میں وہی غلطیاں دکھائی دیتی ہیں جو کہ ان کی اپنی ترقی کی راہ میں بھی رکاوٹ ہوتی ہیں تاہم وہ اپنے معاملے میں ان غلطیوں کو دیکھنے سے ناکام رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر ایک سمجھدار اور تجربہ کار فرد کا سہارا میئسر ہو جو کہ غلطیوں کی نشاندہی کرسکے تو پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی کا سفر بہت آسان ہوسکتا ہے۔ ایسے فرد سمجھددار فرد کو عام طور پر مینٹر کہا جاتا ہے جو ناتجربہ کار افراد کی اپنی نگرانی میں تربیت کرتا ہے۔ اس مینٹر کے ذریعے کسی بھی ناتجربہ کار شخص کو یہ مندرجہ ذیل امور سیکھنے کو مل سکتے ہیں۔یہ مینٹر پیشہ ورانہ ملاقاتوں میں آپ کی نگرانی کرسکتا ہے اور آپ کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے رویئے اور لہجے کے بارے میں بھی تنقیدی تبصرہ کرسکتا ہے۔مینٹر کا کردار کرنے والے فرد کے سامنے دل کی بھڑاس بھی نکالی جاسکتی ہے۔ ایسا فرد آپ کے دل کی بھڑاس کو سننے کے بعد ان منفی پہلوو¿ں کی نشاندہی کے قابل ہوسکتا ہے جو کہ دراصل آپ کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ایک مینٹر ہی آپ کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچان سکتا ہے اور آپ کو یہ اعتماد دے سکتا ہے کہ آپ ان صلاحیتوں کو استعمال میں لائیں۔ نیز وہ کون سے مواقع ہوتے ہیں جب جارحانہ رویہ اپنانا جائز اور ضروری ہے، یہ بھی ایک مینٹر ہی سکھاتا ہے۔پیشہ ورانہ سفرکے آغاز پر چھوٹی چھوٹی ناکامیوں زیادہ مایوسی پیدا کرتی ہیں لیکن اگر مینٹر کی صورت میں کسی شفیق ہمدرد شٰخص کا ساتھ میسر ہو تو ایسے میں ان ناکامیوں سے سیکھ کے دوبارہ کام شروع کرنے کی ہمت ملتی ہے۔ اس موقع پر بکھرا ہوا اعتماد بھی مینٹر کی بدولت زیادہ آسانی سے بحال کیاجاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…