جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت دو مقبول ترین مگرخطرناک گیمز پر پابندی لگانے کا فیصلہ،احکامات جاری

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے بلیو وہیل اور مومو گیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسی گیمز کی گنجائش نہیں ہے اس طرح کی گیمز بنانا اور پھیلانا سائبر کرائم کے زمرے میں آئے گا تفصیلات کے مطابق حکومت نے بلیو وہیل اور مومو گیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایسی گیمز کی گنجائش نہیں ہے۔ اس قسم کی گیمز بنانا اور پھیلانا سائبر کرائم کے زمرے میں آئے گا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے کنو نیر ووفا قی وزیر برائے انفار میشن ٹیکنالوجی و مواصلات ڈاکٹر خا لد مقبول صدیقی نے گذشتہ روزکراچی میں آئی ٹی ٹیکنالوجی اور سافٹ ویرڈویلپرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بلیو ویل اور مومو جیسے سافٹویرز (سوشل گیمز)کی کوئی گنجائش موجود نہیں، اس طرح کے سوفٹ ویرز (سوشل گیمز)نوجوانوں کی تباہی اور دنیا میں موت کا ایک بڑا سبب بنتے جارہے ہیں اور افسوس کی بات ہے کہ اب یہ ہمارے معاشرے میں بھی نشے کی طرح پھیل رہا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا کہ بہت جلد حکومت پاکستان ایسے تمام سوفٹ ویرز (سوشل گیمز) کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رہی ہے جبکہ اب ہم ایک قانونی سازی کے زریعے اس طرز کے تمام پروگرامز کا بنانا، اس کا پھیلانا یا اسکا استعمال کرنا سائبر کرائم کے ضمرے میں لائیں گے اور اس کے استعمال پر سخت سزائیں دی جائینگی۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خصوصا والدین سے اپیل کی کہ وہ بچوں پر کڑی نگاہ رکھیں،کیونکہ یہ سوشل گیمزواٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے آپ کے بچوں کو ان کے موبائل فون پر بھیجے جارہے ہیں اور جو بچہ یا بڑا ایک بار اس کے شکنجے میں پھنس جائے

اسکا نکلنا مشکل ہوجاتا ہے ،ذرائع ابلاغ بھی ان سافٹویرز (سوشل گیمز) کی تباہ کاریوں سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے افرادبھی اس سلسلے میں ایک اہم کردار اداکر سکتے ہیں اور وہ اپنی اگاہی مہم کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں اور بچوں کو ایسے تمام سافٹویرز (سوشل گیمز)سے دور کرکے احتماعی طور پر ہزاروں زندگیاں بچانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…