جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ملتان میٹرو منصوبہ بنانے کیلئے شہباز شریف نے یتیم بچوں کی کفالت کیلئے بنائی گئی دکانوں تک کو مسمار کروا دیا، خاتون اول بشریٰ عمران کی دارالشفقت آمد کے موقع پر ایسا انکشاف ہو گیا کہ جان کر آپ بھی افسردہ ہو جائیں گے

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی )وزیراعظم کی اہلیہ بشریٰ عمران کو انجمن حمایت اسلام کے اعزازی سیکرٹری فنانس نے وزیراعطم کے نام خط پیش کیا ، خط کے متن میں کہا گیا کہ اورنج لائن منصوبے کی وجہ سے ملتان روڈ پر انجمن حمایت اسلام کی دکانیں گرائی گئیں ، دکانوں کے کرائے کی رقم بچوں کی کفالت پر خرچ ہوئی تھی۔ ہفتہ کو وزیراعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی دارالشفقت میں بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور کھانے کے بعد داتا دربار روانہ ہوگئیں۔ بشریٰ بی بی کو انجمن حمایت اسلام کے

اعزازی سیکرٹری فنانس نے وزیراعظم کے نام خط پیش کیا ۔ خط کے متن کے مطابق اورنج لائن ٹرین منصوبے کی وجہ سے ملتان روڈ پر انجمن حمایت اسلام کی دکانیں گرائی گئیں ۔ دکانوں کے کرائی کی رقم بچوں کی کفالت پر خرچ ہوئی تھی ۔ انجمن حمایت اسلام نے خالیپلاٹ پر پلازہ بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ ایک سال سے پلازہ کی تعمیر کی منطوری نہیں دی جا رہی ۔ خط میں استدعا کی گئی کہ پلازہ کی تعمیر کی منظوری دی جائے تا کہ بچوں کی کفالت کا بندوبست کیا جا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…