جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے چھاپے کے دوران ہسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیںبرآمد، پیپلزپارٹی رہنما کو ہسپتال سے اب کہاں منتقل کر دیا گیاہے ؟بڑی خبر آگئی

datetime 1  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ضیاالدین اور جناح ہسپتال کراچی میں چیف جسٹس کے خفیہ چھاپے،سیاسی قیدیوں کے کمروں پر چھاپوں کے دوران شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے پر ہسپتال سےواپس سینٹرل جیل کراچی منتقل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار آج کراچی میں موجود ہیں جہاں انہوں نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری

میں مقدمات کی سماعت بھی کی ۔ مقدمات کی سماعت سے قبل چیف جسٹس آف پاکستان آج صبح اچانک ضیا الدین اورجناح ہسپتال پہنچ گئے۔ ضیا الدین ہسپتال میں چیف جسٹس آف پاکستان نے وہاں داخل سیاسی قیدیوں کے کمروں کا دورہ کیا۔ اس دوران چیف جسٹس پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کے کمرے میں بھی گئے جہاں سے شراب کی تین بوتلیں برآمد ہوئیں جس پر چیف جسٹس نے ان سے سوال کیا کہ یہ کس کی بوتلیں ہیں جس پر شرجیل میمن کا جواب تھا کہ یہ شراب کی بوتلیں ان کی نہیں ہیں۔ چیف جسٹس حسین لوائی اور انور مجید کے کمروں میں بھی گئے اور وہاں کا جائزہ لیا اس دوران وہاں سے کچھ ریکارڈ بھی قبضے میں لیا۔ چیف جسٹس کا اس موقع پر اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل انور منصور صاحب آپ نے بہت اچھے کام کئے ہیں تاہم اس جانب بھی ایک نظر ڈالیں۔ چیف جسٹس کے چلے جانے کے بعد شرجیل میمن کا کیمرہ سیل کر کے انہیں سینٹرل جیل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس نے ادارہ امراض قلب میں زیر علاج قیدیوں کے ریکارڈ کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہے جبکہ کئی زیر علاج قیدیوں کو واپس جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے ۔چیف جسٹس نے شرجیل میمن کے کمرے پر چھاپہ مارا تو وہ تقریبا تین منٹ تک کمرے میں رہے اور انہوں نے پی پی پی کے رہنما کی طبیعت کو تسلی بخش قرار دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…