جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیراعظم عمران خان کو اعلیٰ ترین عہدے پر فائز اہم شخصیت کو فارغ کرنا مہنگا پڑ گیا،جواب میں ایسا کام کردیاگیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد خان نے صدارت سے ہٹائے جانے کا حکومتی فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔وفاقی کابینہ نے گزشتہ اجلاس میں منی لانڈرنگ کے الزامات پر نیشنل بینک کے صدر سعید احمد خان کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی تھی اور ان کی جگہ طارق جمالی کو

نیشنل بینک کا قائم مقام صدر مقرر کیا گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق سعید احمد خان نے صدارت سے معطلی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا اور ان کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے۔سعید احمد کی درخواست کواسلام آباد ہائی کورٹ کی ارجنٹ کیسز کی کاز لسٹ میں شامل کیا گیا ہے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کل سعید احمد کی درخواست پر سماعت کریں گے۔سعید احمد کی جانب سے دائر درخواست میں وزیراعظم، سیکریٹری خزانہ،کابینہ ڈویژن، گورنر اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کنٹریکٹ ملازم ہے، کبھی قوانین وضوابط کی خلاف ورزی نہیں کی، کوئی ڈیپارٹمنٹل انکوائری بھی میرے خلاف زیرا التوا نہیں ہے، کوئی چارج فریم ہوا نہ شوکاز کیا گیا، بغیر سنے معطلی غیر قانونی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ سیکریٹری خزانہ کا نوٹیفکیشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے اور یکم جنوری 2019 تک بطور صدر نیشنل بینک کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…