جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ن لیگ کواعتزاز احسن پر سب سے بڑا اعتراض کس بات پر ہے؟اگر حزب اختلاف کی طرف سے مشترکہ امیدوار سامنے آیا تو کیا ہوگا؟حاصل بزنجو کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار چوہدری اعتزاز احسن کی حمایت کرنے پر مسلم لیگ (ن )کو سب سے بڑا اعتراض اعتزاز احسن کی طرف سے پاناما کیس کے دوران نواز شریف کے خلاف دئیے گئے بیانات تھے اور اسی وجہ سے تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار کے مقابلے میں حزب اختلاف کو مشترکہ صدارتی امیداوار میدان میں لانے میں ناکامی کا سامنا رہا۔بی بی سی کو دیئے گئے

انٹرویو میں حزب اختلاف کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاصل بزنجو نے کہا کہ پاکستان مسلم ن کے اراکین اعتزاز احسن کو ووٹ دینے کیلئے تیار نہیں تھے۔صدارتی انتخاب میں مشترکہ امیدوار ہونے کی صورت میں جیت کے امکانات پر بات کرتے ہوئے بلوچستان کے رہنما نے کہا کہ صدارتی انتخاب میں کیونکہ صوبائی اسمبلی کی کل تعداد کو بلوچستان اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد پر تقسیم کیا جاتا ہے اس لیے بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ووٹ کی قدر کہیں بڑھ جاتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر حزب اختلاف کی طرف سے مشترکہ امیدوار سامنے آتا تو مقابلہ انتہائی دلچسپ اور کڑا ہو جاتا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اختر مینگل حزب اقتدار کی حمایت نہیں کر رہے اور نیشنل عوامی پارٹی نے حزب اقتدار کا حصہ ہوتے ہوئے بھی صدارتی انتخاب میں حزب مخالف کے امیدوار کو ووٹ دینے کا یقین دلایا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس صورتحال میں حزب اختلاف بڑا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتی تھی۔پیپلز پارٹی کی طرف سے اعتزاز احسن کو نامزد کیے جانے پر انھوں نے کہا کہ متحدہ حزب اختلاف کی کس جماعت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا کہ وہ یک طرفہ طور پر حزب اختلاف کے مشترکہ صدارتی امیدوار کے نام کا اعلان کر دیں۔حاصل بزنجو نے کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے اعتزاز احسن نواز شریف اور کلثوم نواز کے متعلق جو بیانات دیتے رہے ہیں

ان کی وجہ سے مسلم لیگ کے اراکین انھیں ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھے اور یہی حزب اختلاف کی سب سے بڑی مشکل تھی۔پیپلز پارٹی نے بقول ان کے یکطرفہ طور پر اعتزاز احسن کے نام کا اعلان کر دیا جس سے یہ معاملہ پیچیدگی کا شکار ہو گیا۔ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ وہ پوری طرح سے حزب اختلاف کا ساتھ دے گی یا حزب اقتدار کا ساتھ دیں گے۔انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کہنے پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا ابتدائی طور پر حزب اختلاف کی کئی جماعتیں خاص طور مولانا فضل الرحمان کی جماعت قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھنے کو تیار نہیں تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…