جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

جیل میں نوازشریف کی حالت خراب، گھر کو سب جیل قرار دینے کی تیاریاں،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی رہائش گاہوں کو سب جیل قرار دینے کے لیے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی ہے۔وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفر اللہ خان نے گزشتہ روز یہ اپیل دائر کی۔اپیل میں کہا گیا کہ نواز شریف علیل ہیں اور دورانِ قید طبیعت بگڑنے پر انہیں ہسپتال بھی منتقل ہونا پڑا۔درخواست گزار نے کہا کہ

دونوں فریقین رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے لندن سے واپس آئے ٗ انہوں نے قانون کو عزت دی۔درخواست گزار نے سابق صدر پرویز مشرف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 6 کے تحت قصوروار قرار دیے گئے تھے اور ان کے گھر کو ہی سب جیل کا درجہ دیا گیا تھا۔درخواست گزار نے کہا کہ بعد ازاں سپریم کورٹ سے ضمانت پر وہ بیرونِ ملک روانہ ہوئے اور ملک واپس نہیں آئے ہیں۔درخواست گزار نے اپیل میں کہا کہ امریکا میں تعینات پاکستانی سفارت کار حسین حقانی کو بھی آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت قصوروار قرار دیا گیا تھا تاہم وہ کیس کی کارروائی کے دوران پریذیڈنٹ ہاؤس میں مقیم تھے اور سپریم کورٹ سے ضمانت ملتے تک انہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں قیام کیا تھا۔درخواست گزار نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے کابینہ کے پہلے اجلاس میں نواز شریف اور مریم نواز کا نام جیل میں ہونے کے باوجود ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا۔درخواست میں قیدیوں سے متعلق قانون نمبر4، 6، 225 اور 245 کا ذکر بھی کیاگیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…