جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ایسا یورپی ملک جہاں دس دس برس کے مسلمان بچے خودکشیاں کر رہے ہیں، ایسی خبر آگئی کہ جان کر آپ بھی افسردہ ہو جائیں گے

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

ایتھنز(نیوز ڈیسک)یونانی جزیرے لیسبوس کے موریا کیمپ میں جان لیوا تشدد ہے، گنجائش سے زیادہ لوگ ہیں، صفائی کی صورتحال ابتر ہے اور ایک خیراتی ادارے کے مطابق اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ دس دس برس کے بچے بھی خودکشی کرنے لگے ہیں۔ برطانوی ٹی وی کے مطابق افغان خاتون نے کہاکہ ہم ہر وقت یہاں سے نکلنے کو تیار رہتے ہیں، 24 گھنٹے ہم اپنے بچوں کو

تیار رکھتے ہیں۔سارہ نے بتایا کہ وہ اور ان کا خاندان سارا دن قطار میں لگ کر خوراک حاصل کرتا ہے اور رات بھر تشدد کی صورت میں بھاگنے کے لیے چوکنے رہتے ہیں کیونکہ وہاں مسلسل جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔اس تشدد کا مطلب ہے کہ ہماری بچے سو نہیں سکتے۔یہاں حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ امدادی ادارے احتجاجاً یہاں سے چلے گئے ہیں۔طبی امدادی ادارے ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق یہاں مقیم 70 افراد کے لیے ایک بیت الخلا ہے اور کیمپ کی فضا میں انسانی فضلے کی بو رچ بس گئی ہے۔کچھ لوگ ٹین کی چادروں سے بنے موبائل کیبنوں میں رہتے ہیں تاہم ان کے گرد بیشتر خیمے اور ترپال سے بنی پناگاہیں ہیں اور ان میں وہ لوگ مقیم ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے سرکاری جگہ نہیں ہے۔یہ خیمہ بستی اب نواحی علاقوں میں پھیل رہی ہے۔ ایک ٹینٹ میں 17 افراد رہتے ہیں یعنی ایک ہی جگہ چار خاندان آباد ہیں۔ایم ایس ایف کے مطابق محض 3000 افراد کے لیے بنے اس کیمپ میں 8000 افراد رہتے ہیں۔ایک ماں نے بتایا کہ وہ اس جگہ اپنے 12 دن کے بچے کے ساتھ رہتی ہے جہاں فرش پر پاخانہ پڑا ہوا تھا۔اس کیمپ میں تشدد انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ مئی میں عرب اور کردوں کے درمیاں لڑائی کے باعث سینکڑوں کردوں کو یہ جگہ چھوڑنی پڑی۔علی جو اب اس کیمپ سے جا چکے ہیں، انھوں نے بتایا کہ جب وہ اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ساتھ آئے تو ہمیں پتا چلا

کہ یہاں پہلے سے فرقہ واریت، نسل پرستی موجود تھی چاہے وہ شیعہ سنی کے درمیان ہو یا کرد ، عربوں یا افغان کے بیچ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شام میں باغیوں کے درمیان جاری لڑائی کیمپ کے دروازے تک آ گئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ یہ شام میں جاری لڑائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی بدتر۔ ہم نے سنا ہے کہ وہاں ریپ کے واقعات ہوئے اور جنسی ہراس کے بھی۔جس روز ہم موریا میں فلم بندی کر رہے تھے

اسی دن دوپہر کے کھانے کے لیے لگی قطار میں لڑائی ہو گئی۔ دو افراد کو چاقو مارا گیا اور دوسرے اسے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہو گئے۔یہ کیمپ یونان کی حکومت کے زیرِ اختیار ہے اور لوگوں کی تعداد اس لیے بڑھ رہی ہیں کیونکہ یونان یورپ کی ’حدود میں رکھنے کی پالیسی‘ اپنائے ہوئے ہے لہٰذا وہ لوگوں کو اپنے ملک میں داخل کرنے کے بجائے اسی جزیرے پر محدود رکھ رہا ہے۔یونانی حکومت کے ترجمان جارج میتھائوس موریا کی بدترین صورتحال کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کا الزام یورپی یونین کے سر عائد کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…