جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اپوزیشن میں پھوٹ پڑ گئی،پیپلز پارٹی کے یوٹرن کے بعد مشترکہ صدارتی امیدار لانے میں ناکامی پر اپوزیشن جماعتیں پیپلز پارٹی پر پھٹ پڑیں،سنگین الزامات عائد

datetime 28  اگست‬‮  2018 |

اسلام آبا (این این آئی)صدارتی انتخاب کیلئے پیپلزپارٹی کے یوٹرن کے بعد مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی پر دیگر اپوزیشن جماعتیں پی پی پر پھٹ پڑیں۔تفصیلات کے مطابق گرینڈ اپوزیشن الائنس نے صدارتی انتخاب کے لیے مشترکہ امیدوار لانے کا اعلان کیا تھا تاہم پیپلزپارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا گیا جس پر مسلم لیگ (ن) نے شدید اعتراض کیا اور امیدوار کی تبدیلی کا مطالبہ کیا لیکن آصف زرداری نے امیدوار کی تبدیلی سے انکار کردیا۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے

اعتزاز احسن کے نام پر ڈٹے رہنے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مولانا فضل الرحمان کو امیدوار نامزد کردیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری اور دیگر نے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے میں ناکامی پر پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔میر حاصل بزنجو نے کہا کہ مضبوط اپوزیشن کے لیے ہم سب مل بیٹھے تھے، پہلا مرحلہ آیا تو فیصلہ ہوا کہ وزیراعظم کا امیدوار(ن) لیگ کا ہوگا، فیصلہ ہوا تھا کہ وزیراعظم کا امیدوار (ن) لیگ، اسپیکر پیپلزپارٹی اور ڈپٹی ایم ایم ایسے ہوگا۔انہونے کہاکہ وزیراعظم کیلئے شہباز شریف کا نام بھی پیپلز پارٹی نے دیا تھا شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر چیئرمین سینیٹ لینا چاہتے ہیں تو تیار ہیں کیونکہ ہمارا مقصد الائنس رکھنا ہے لیکن پیپلزپارٹی نے جس طرح بیک آؤٹ کیا اس سے اتحاد کو دھچکا لگا۔انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی کوشش کریں گے کہ پیپلزپارٹی کی منتیں کریں، مولانا فضل الرحمان سے کہیں گے کہ وہ آصف زرداری کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ مشترکہ صدارتی امیدوار کے لیے پیپلزپارٹی سے معاملات طے نہیں ہوپائے، رات گئے تک بھی مشترکا امیدوار کے لیے کوشش کی، امید کرتا ہوں پیپلز پارٹی اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونے سے بچائیگی، پیپلز پارٹی نے پہلے کہا تھا

تین امیدواروں کا پینل دیں گے، انہوں نے پینل کا نام نہیں دیا بلکہ اعتراز احسن پرہی اڑے رہے۔ جے یو آئی (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ مسلسل رابطوں کے باوجود پیپلزپارٹی اب تک اس اتحاد کا حصہ نہیں بنی، پیپلزپارٹی کے پاس جائیں گے اور درخواست کریں گے کہ وہ اپوزیشن کی تقسیم کا سبب نہ بنے، ہم جیتنے کی پوزیشن میں ہیں بشرط پیپلزپارٹی ساتھ دے۔عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے صدارتی امیدوار کے لیے اعتزاز احسن کی بجائے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کا اعلان کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…