جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

عمران خان کے وزیراعظم بنتے ہی افغان صدر کا بھی اصل چہرہ سامنے آگیا، پاکستان پر سنگین ترین الزام عائد کر دیا

datetime 17  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)دفتر خارجہ نے افغان طالبان کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کا الزام مسترد کردیا۔افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ روز الزام لگایا ہے کہ غزنی شہر میں جھڑپوں میں زخمی افغان طالبان کو پاکستانی اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اشرف غنی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزنی کی جنگ میں زخمی طالبان جنگجوؤں کو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات نہیں دی گئیں، افغانستان نے تاحال اپنے اس الزام کا

کوئی ثبوت یا شواہد فراہم نہیں کیے۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سرکاری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطے منقطع ہیں جس کے باعث ان اطلاعات کو اہمیت نہیں دی جا سکتی، افغانستان کی جانب سے اس قسم کے من گھڑت بیانات اور الزامات محض منفی پروپیگنڈا ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔واضح رہے کہ 10 اگست کو افغانستان میں افغانستان کے چھٹے بڑے شہر غزنی پر ایک اور بہت حملہ کیا تھا۔ نیٹو، افغان افواج اور طالبان کے درمیان یہ لڑائی ایک ہفتے تک جاری رہی

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…