منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکسٹائل پیکیج، ڈیوٹی ڈرا بیک برآمدات میں اضافے سے مشروط

datetime 16  اگست‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی)وفاقی حکومت نے ملکی برآمدا ت کو فروغ دینے کے لیے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دیے جانے والے مراعاتی پیکیج کے تحت 50 فیصد ڈیوٹی ڈرابیک کی سہولت کو برآمدات میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ مشروط کر دیا ہے جبکہ غیر روایتی منڈیوں میں برآمدات کرنے کی صورت میں 2 فیصد اضافی ڈرابیک کی ادائیگی کی جائے گی۔اس سلسلے میں ٹیکسٹائل ڈویژن کی جانب سے گارمنٹس

سیکٹر، ہوم ٹیکسٹائل اور پروسیس فیبرک کے برآمدکنندگان کے لیے ڈیوٹی ڈرابیک آف ٹیکسز آرڈر 2018-21 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزارت تجارت و ٹیکسٹائل کی جانب سے برآمدات کے فروغ کے لیے وزیراعظم کے مراعاتی پیکیج میں توسیع کرتے ہوئے گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور پروسیس فیبرک کے لیے ڈیوٹی ڈرابیک آف ٹیکسز آرڈر 2018-21کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گارمنٹس، ہوم ٹیکسٹائل اور پروسیس فیبرک سیکٹر کو ڈیوٹی ڈرابیک یکم جولائی 2018 سے 30 جون 2021 تک تین سال کے لیے دیئے جائیں گے۔50 فیصد ڈیوٹی ڈرابیک برآمدات میں کسی اضافے کی شرط کے بغیر ادا کیے جائیں گے جبکہ 50 فیصد ڈیوٹی ڈرابیک کی ادائیگی کو برآمدات میں 10فیصداضافے کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ غیر روایتی منڈیوں جس میں افریقہ، لاطینی امریکا، نان ای یو ممالک، آزاد ممالک کی دولت مشترکہ میں برآمدات کرنیوالے برآمدکنندگان کو 2 فیصد اضافی ڈرابیک ملے گا۔یہ ڈیوٹی ڈرابیک مینوفیکچرنگ کم ایکسپورٹنگ یونٹس اور کمرشل ایکسپورٹرز کو مصنوعات کی برآمدات پر ملیں گے۔ ایکسپورٹ کو شپمنٹ کی تاریخ سے شمار کیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق جو ایکسپورٹر ڈرابیک حاصل کریں گے ان کو ٹیکسٹائل ڈویژن کے ساتھ رجسٹرڈ ہوناچاہیے جو جو ایکسپورٹر ڈرابیک حاصل کر رہے ہیں۔ان کا ڈائریکٹوریٹ آف ٹریڈ آرگنائزیشن وزارت تجارت و ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن یا چیمبر کا ممبر ہونا چاہیے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق برآمدکنندگان کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ جب بھی ٹیکسٹائل ڈویژن کو برآمدکنندگان کے آپریشن، ڈومیسٹک سیلز، اکانٹ اور برآمدات کے اعداد و شمار کی ضرورت ہو گی۔ ایکسپورٹر ٹیکسٹائل ڈویژن کو یہ تمام معلومات دینے کا پابند ہو گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ٹیکسٹائل ڈویژن کی جانب سے آرڈر کی فوری ادائیگی کے لیے مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ برآمدکنندہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تجویز کر دہ فارم پر کلیمز منظور شدہ ڈیلر کو جمع کرائے گا۔ ڈیلر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے طریقہ کار کے مطابق کلیمز کی اسکروٹنی کرے گا جس کے بعد کلیمز اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کرائے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک کلیمز کی اسکروٹنی کرنے کے بعد منظور شدہ ڈیلر کو 30دن کے اند ر رقم کی ادائیگی کرے گا جبکہ ڈیلر 24گھنٹے کے اندر ایکسپورٹرکو کلیم کی رقم کی ادائیگی کرے گا جبکہ کلیمز میں کسی قسم کا فراڈ کرنے والے کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی کے مطابق جرمانہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…