بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

تحریک انصاف کی متوقع حکومت کی خبر کے فوراً بعد مجموعی طورپر اب تک چین اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کو کتنے ارب ڈالر دینے کی پیشکش کرچکے؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 30  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی) ڈالر کی قدر میں ہونے والی غیر معمولی کمی نے پاکستانی کاٹن مارکیٹس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،صرف چار روز کے دوران روئی کی قیمتیں ریکارڈ 700 روپے فی من مندی کے بعد 8 ہزار 900 روپے فی من تک گرنے کے بعد ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی کی خریداری معطل کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگے داموں خریدی گئی روئی کی تقریباً 20 ہزار بیلز کے سودے بھی غیر اعلانیہ طور پر منسوخ کر دیے ۔

کاشتکاروں اور کاٹن جنرز میں تشویش کی لہر ۔چیئر مین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ عام انتخابات کے بعد چین کی جانب سے 2 ارب ڈالر اور اسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کی جانب سے 4.50 ارب ڈالر کے قرض جاری کرنے کے اعلان کے باعث روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں ہونے والی غیر متوقع کمی کے باعث پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کا رجحان سامنے آیا جس کے دوران روئی کی قیمتیں 9 ہزار 600 روپے سے کم ہو کر سوموار کی صبح تک 8 ہزار 900 روپے فی من تک گر گئیں لیکن ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کے رجحان کے باعث بیشتر ٹیکسٹائل ملز مالکان نے روئی کی خریداری معطل کرنے کا اعلان کر دیا جس سے ملک بھر کی کاٹن مارکیٹس میں زبردست تشویش کی لہر دیکھی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ اگر روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں مندی کا رجحان جاری رہا تو آئندہ چند روز کے دوران روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں مزید مندی کا رجحان سامنے آ سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی مندی کے رجحان کے باعث سندھ اور پنجاب کے بیشتر شہروں میں بعض ٹیکسٹائل ملز مالکان نے 9 ہزار 200 سے 9 ہزار 600 روپے فی من کے حساب سے کیے گئے روئی کی 20 ہزار بیلز سے زائد کے سودے بھی غیر اعلانیہ طور پر منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے کاٹن جنرز کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس سے پھٹی کی قیمتوں اور خریداری رجحان میں بھی غیر معمولی کمی کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…