بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے دوائیاں نہیں اور افسران عیاشیاں کر رہے ہیں، چیف جسٹس نے کتنے لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے شہباز شریف کے لگائے گئےتمام افسران کو طلب کر لیا؟دھماکہ خیز خبر

datetime 28  جولائی  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ نے پنجاب کی 56 کمپنیز میں تین لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والے تمام افسران کو (آج) اتوار کو طلب کر تے ہوئے اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیدیا ، چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ قومی خزانے کی بندر بانٹ کی اجازت نہیں دے سکتے، اسپتالوں میں مریضوں کے لیے دوائیاں نہیں ہیں اور افسران عیاشیاں کر رہے ہیں۔ ہفتہ کو

سپریم کورٹ میں پنجاب کی 56 کمپنیز سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈی جی نیب لاہور اور چیف سیکرٹری پنجاب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ پنجاب حکومت نے جواب جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ 346 سرکاری افسران کو 56 کمپنیز میں بھیجا گیا، جن کی فہرست نیب کو فراہم کردی ہے۔سپریم کورٹ نے ان تمام افسران کو نوٹس جاری کرتے ہوئے (آج) اتوار کو طلب کرلیا اور اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے سرکاری شعبے سے کمپنیز میں جانے والے تمام چیف ایگزیکٹیو افسران کی فہرست بھی فوری طور پر پیش کرنے کا حکم دیا۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سرکاری افسر کے طور پر کیپٹن عثمان پنجاب حکومت سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تنخواہ لے رہا تھا، لیکن کمپنی میں جا کر 14 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہے، ہم ان افسران کو دیے جانے والے سارے پیسے واپس لے کر ڈیم فنڈ میں جمع کرائیں گے، یہ عوام کے پیسے ہیں جن کی بندر بانٹ ی اجازت نہیں دے سکتے، اسپتالوں میں مریضوں کے لیے دوائیاں نہیں ہیں اور افسران عیاشیاں کر رہے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ (آج) اتوار کو تمام افسران سپریم کورٹ میں پیش ہوں۔ اپنا موقف دینا چاہتے ہیں تو آج تک دیدیں۔ پیچیدہ پرفارمہ بنانے پر چیف جسٹس ڈی جی نیب پر برہم ہو گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی صاحب آپ معاملے کو پیچیدہ کیوں کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…