بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ،عام انتخابات کے بارے میں مثبت رپورٹ دینے کے بعدیورپی یونین کے مبصرین کی بڑی قلابازی،انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 27  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے یورپی یونین کے مبصرین نے کہاہے کہ پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات 2013 میں ہونے والے عام انتخابات سے کسی طور پر بھی بہتر نہیں ہیں ٗ کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے ٗپوسٹل بیلٹنگ پر تحفظات ہیں ٗ یہ عمل کسی طور پر محفوظ نہیں ہے ٗ ووٹ کا تقدس پامال ہونے کے ساتھ دھاندلی کا بھی خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے ٗ

تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے ٗعمران خان کی تقاریر کو 7 گھٹے براہ راست دکھایا گیا ٗ شہباز شریف کو چار گھنٹے اور بلاول بھٹو زرداری کو تین گھنٹے لائیو کوریج دی گئی۔ جمعہ کو مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے یورپی یونین کے مبصرین کے نمائندوں نے کہا کہ کچھ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے۔یورپی یونین کے مبصرین کے وفد کے سربراہ مائیکل گالر نے کہا کہ پولنگ کے دوران سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنز کے اندر تعینات کرنا ناقابل فہم عمل ہے جبکہ الیکشن کمیشن ایکٹ میں ایسی کوئی تجویز نہیں ہے جس میں سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ سٹیشنز کے اندر تعینات کیا جائے۔یورپی یونین کے مبصرین نے پوسٹل بیلٹنگ پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ عمل کسی طور پر محفوظ نہیں ہے کیونکہ اس عمل سے ووٹ کا تقدس پامال ہونے کے ساتھ دھاندلی کا بھی خطرہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے 925 ایسے افراد کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی جن کا تعلق کسی نہ کسی طریقے سے کالعدم تنظیموں سے رہا ہے۔ ان نمائندوں نے امیدوادروں کی انتخابی سکروٹنی کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا۔یورپی یونین کے مبصرین کے وفد کے سربراہ نے کہاکہ ان کے مشاہدے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔

اْنھوں نے کہا کہ قومی ٹیلی ویژن اور دیگر نجی ٹی وی چینلز نے بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یکساں مواقع فراہم نہیں کیے۔پاکستان کے متوقع وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقاریر کو 7 گھٹے براہ راست دکھایا گیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چار گھنٹے اور بلاول بھٹو زرداری کو تین گھنٹے لائیو کوریج دی گئی۔اْنھوں نے کہا کہ غیر جمہوری طاقتوں نے

مختلف ٹی وی چینلز پر فون کرکے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی کوریج نہ کرنے کے بارے میں بھی کہا گیا۔یورپی یونین کے مبصرین نے کہا کہ پاکستان میں انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور میڈیا کے ارکان کے پاس الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اجازت نامے کے باوجود پولنگ سٹیشن کے اندر ہونے والی کارروائی دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…