بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

این اے 53،ووٹر ووٹ پول کئے بغیر گھر کیوں چلے گئے الیکشن کمیشن کا ایسا ’کارنامہ‘ جو پی ٹی آئی والوں کو آگ بگولہ کر دیگا

datetime 25  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)الیکشن کمیشن کی کارکردگی کا پول کھل گیا‘ ووٹرز ذلیل وخوار ہوتے رہے ‘باہر والی لسٹیں اندر والی لسٹوں سے میچ ہی نہیں کرتیں ‘اکثر مردو خواتین ووٹ ڈالے بغیر واپس گھروں کو چلے گئے-حلقہ این اے 53 جی نائن ٹو میں ووٹرز اور الیکشن کمیشن کا عملہ پریشانی سے دو چار رہا‘ ووٹر باہر سے پرچی لیکر اندر گئے پرچی پر جو سلسلہ نمبر اور نام لکھا ہوا تھا

اندر الیکشن کمیشن کے عملے کے پاس موجود لسٹوں میں اس سلسلہ نمبر کے مطابق نام ہی موجود نہیں ‘الیکشن کمیشن کا عملہ بھی سر پکڑ کر بیٹھ گیا-اسلام آباد کے دیگر پولنگ سٹیشنزسے بھی اسی طرح کی خبریں موصول ہوئیں -ووٹرز نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جن کے کیمپس انتہائی جانفشانی کے ساتھ لوگوں کی مدد کرتے رہے ‘الیکشن کمیشن نے تو ایس ایم ایس کی سہولت سے دو دو روپے کر کے لاکھوں کروڑوں کما لیے لیکن عوام کو سوائے مشکلات کے کچھ حاصل نہ ہوا اور ہر آدمی کے پاس موبائل بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے ووٹ کے بارے میں چیک کر سکے-پولنگ سٹیشن سکول نمبر 3 کے باہر میڈیا ٹیم موجود نہ ہونے کے باعث لوگ اپنی شکایت اعلی حکام تک نہ پہنچا سکے اور ووٹ کاسٹ کرنے کے بغیر ہی واپس چلے گئے جن میں خواتین ووٹرز بھی شامل تھی-ووٹرز کا کہنا تھا کہ گھر وں سے نکل کر اپنا ووٹ پول کرنے کے نعرے تو لگائے گئے لیکن عوام کو ذلیل وخوار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی‘اکثر لوگ دو دو گھنٹے خوار ہونے کے بعد واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے-خوار ہونے والے ووٹرز کا کہنا ہے کہ ہمیں اس حق سے محروم کرنے میں الیکشن کمیشن کا ہاتھ ہے -ایس ایم ایس پر سیریل نمبر پر جو نام دیئے جا تے رہے الیکشن کمیشن کے عملے کے پاس موجود لسٹوں میں اس سیریل کے مطابق نام ہی موجود نہیں تھا آخر اس کا

ذمہ دار کون ہے؟لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ہم ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اس بار الیکشن کمیشن نے ہمیں ذلیل وخوار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی-الیکشن کمیشن کا عملہ بھی اس صورتحال سے پریشان دکھائی دیا-بعض ووٹرز کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن کی جارہی ہے ہم لوگ اس سے قبل بھی ووٹ دیتے رہے ہیں لیکن اس بار الیکشن کمیشن نے عوام کو ذلیل وخوار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی-

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…