بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

جب ڈان لیکس پر فوجی قیادت اور سول قیادت میں میٹنگ ہوئی توکیا باتیں ہوئیں؟ میرا نوازشریف سے اختلاف کب شروع ہوا؟چوہدری نثارسب سامنے لے آئے

datetime 23  جولائی  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ میرا نوازشریف سے اختلاف پانامہ سے شروع ہوا ٗ میں بچوں کے پیچھے ہاتھ باند کرکھڑا نہیں ہو سکتا ٗ اس موقف پر اب بھی قائم ہوں ٗجب بھی فوج اور سول معاملات درپیش ہوتے تو میں ہمیشہ سول کی طرف کھڑا ہوتا تھا ٗجب ڈان لیکس پر فوجی قیادت اور سول قیادت میں میٹنگ ہوئی تووہا ں کوئی نہیں بولا، میں پرویز رشید کا دفاع کرتارہا ۔ایک انٹرویومیں چودھری نثار نے کہا کہ

میرا نوازشریف سے اختلاف پانامہ سے شروع ہوا مشرف دور میں نوازشریف کے گردوہ لوگ تھے جو ان کو درست مشورے دیتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ ان کو چھو ڑ کر چلے گئے یا ان کو الگ کردیا گیا اور اس کے بعد نوازشریف کے گرد خوش آمدیوں کا گھیرا وسیع ہوتا گیا ۔ یہ لوگ ایسے درجے کے ہیں کہ میں ان کانام لینا پسند نہیں کرتا ۔انہوں نے کہاکہ شہبازشریف اب آئیں بائیں شائیں کررہے ہیں حالانکہ انہوں نے کہا تھاکہ چودھری نثار ٹکٹ مانگے نہ مانگے ان کو ٹکٹ دیا جائے گا ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ میں نے ان سے کہا تھا کہ آپ کی حکومت ہے آپ فوجی قیادت کو بلائیں اور جومعاملات ہیں ان کو فوج کے آگے رکھیں میں ان کومشورہ دیتارہا تھا ۔نوازشریف کو سزا فوج سے لڑائی سے پہلے ہوگئی جب سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ۔ جب عدلیہ نے فیصلہ کیا تو شہبازشریف اس وقت نوازشریف کے منہ میں مٹھائی ڈالنے والے تھے لیکن میں نے کہا کہ یہ اچھا نہیں لگتا ۔انہوں نے کہاکہ ان کے فوج اور عدلیہ سے تعلقا ت بہت اچھے تھے ۔ چودھری نثار نے کہا کہ میں آج بھی مسلم لیگ کا ممبر ہوں میر ے داد اورباپ بھی مسلم لیگی تھے نوازشریف تو حادثاتی طور پر مسلم لیگی بنے ہیں۔ مریم نوازکے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں بچوں کے پیچھے ہاتھ باند کرکھڑا نہیں ہو سکتا اور اس موقف پر اب بھی قائم ہوں۔مجھے کوئی غلط راستے پر نہیں لگا سکتا ۔

مجھے ایک فوجی خاندان سے تعلق رکھنے پر فخر ہے اور میرے خاندان نے فوج کیلئے خون دیا ہے لیکن جب بھی فوج اور سول معاملات درپیش ہوتے تو میں ہمیشہ سول کی طرف کھڑا ہوتا تھا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ان پانچ سالوں میں جب ڈان لیکس ہو یا کوئی اور معاملہ ان کے منہ میں تو زبان نہیں ہوتی تھی ۔ جب ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے ٹوئٹ آیا تو میں نے بیان دیا کہ یہ ٹوئٹ جمہوریت کے لئے زہر قاتل ہے ۔

جب ڈان لیکس پر فوجی قیادت اور سول قیادت میں میٹنگ ہوئی تووہا ں کوئی نہیں بولا، میں پرویز رشید کا دفاع کرتارہا ۔ جورپور ٹ آئی وہ پرویز رشید کی جانب سے فون پیش کئے جانے کے بعد آئی اور فون خود پرویز رشید نے پیش کیا کہ میرا فون لے لیں اور اس موقع پر فون میں انگریزی مسیج پر میں نے کہا کہ پرویز رشید انگریزی میں مسیج نہیں کر سکتا اور

اس طرح پرویز رشید کا دفاع کیا ۔جیپ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے جیپ ، کیتلی اور میز کرسی کے نشانات اپلائی کئے تھے اور بالکل آخری دنوں میں مجھ کو جیپ کا نشان مل گیا ۔ اس سارے سیاسی ماحول میں مجھے جوسب سے جرات مندانہ انتخابی مہم لگی ہے وہ پیپلز پارٹی اور بلاول کی ہے ٗیہ مستقبل میں ان کے لئے بہت سود مند ثابت ہوگی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…