بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعد سندھ میں بھی اہم سیاسی شخصیت پر خوفناک حملہ،متعدد افراد زخمی ، ایمرجنسی نافذ کردی گئی، ہسپتالوں میں ہائی الرٹ

datetime 22  جولائی  2018 |

محراب پور(این این آئی)بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعد سندھ میں بھی اہم سیاسی شخصیت پر خوفناک حملہ،متعدد افراد زخمی ، ایمرجنسی نافذ کردی گئی، ہسپتالوں میں ہائی الرٹ، تفصیلات کے مطابق گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے امیدوار ڈاکٹر عبدالستار راجپر پر حملہ ہوگیا جس میں 8افراد زخمی ہو گئے ہیں۔خوش قسمتی سے حملے میں وہ محفوظ رہے ہیں۔ڈاکٹرعبدالستارراجپر پر حملہ بیلا واہ کے قریب الیکشن مہم کے دوران ہوا۔

جی ڈی اے کے امیدوار سندھ کے حلقہ پی ایس 34 سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔سابق ایم این اے جی ڈی اے رہنما اور پی ایس 34 کے امیدوار ڈاکٹر عبدالستار راجپر کی ریلی پر پتھرا پولیس اہلکار صحافیوں سیمت دس افراد زخمی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سابق ایم پی اے اور جی ڈی اے رہنما پی ایس 34 کے امیدوار ڈاکٹر عبدالستار راجپر کی ریلی ورک کے سلسلہ میں گاؤں جان محمد راجپر میں میں پہنچے تو گاں کے سامنے کانٹوں کی باڑ لگا کر راستہ روک دیا گیا تھاْ شرکا ریلی نے باڑ ہٹانے کی کوشش کی ۔ شر پسندوں نے پتھروں سے حملہ کر دیا جس میں دس افراد پولیس اہلکار پرویز راجپر سینئر صحافی شکیل آرائیں صحافی ساجد جو یو نعمان راجپر سجاد راجپر نثار راجپر عمران راجپر مشتاق راجپر سمیت دس افراد زخمی ہو گئے۔ واقع کی اطلاع پر پولیس اور رینجرز نے پہنچ کر زخیموں کو پڈعیدن اور بھریاسٹی اسپتال منتقل کردیا۔ ڈاکٹر عبدالستار راجپر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ حملہ پی پی کے شرپسندوں نے کیا ہے کیا ہمیں روک سے روکا جارہا ہے پی پی کو اپنی شکست نظر آرہی ہے اس لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں واقع کے بعد علاقہ میں خوف کی فضا چھا گئی پی پی کے رہنما علی حسن محمد جڑیل عبدالجبار راجپر نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالستار راجپر نے ہمارے گاں میں پہنچ کر ہنگامہ آرائی کرائی ہیں ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری گاں میں تعینات کردی گئی ہے آخری اطلاعات تک واقع کا مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا ہے ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…