ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان اور پرویز خٹک کی جانب سے گالیوں اور غیرمہذب زبان کے استعمال پر پیپلزپارٹی کے رہنماء شدید مشتعل،الیکشن کمیشن سے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 15  جولائی  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے پی کی سیکریٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد نے الیکشن کمیشن کی توجہ عمران نیازی اور پرویز خٹک کی طرف سے مخالفین کے خلاف غیرمہذب زبان استعمال کرنے کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ کے پی میں پی ٹی آئی کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے اسی وجہ سے وہ گالی گلوچ پر اتر آئے ہیں۔

سینیٹر رویبنہ خالد نے کہا کہ عمران نیازی نے تو سیاسی مخالفین پر الزام تراشی کے بعد پنجاب والوں کو گدھے کے نام سے تعبیر کیا جبکہ پرویز خٹک اپنے جلسوں میں پختونوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ جس پارٹی کی قیادت کی زبان پر صرف گالی گلوچ ہو وہ عوام کی کیا خدمت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی کی صوبائی حکومت نے کے پی میں لوٹ مار کے سوا کوئی کام نہیں کیا اور صوبے کو 300ارب روپے کا مقروض بنا کر رخصت ہوئے۔ انہوں نے پرویز خٹک کو یاددلایا کہ وہ کسی زمانے میں پیپلزپارٹی کے کارکن تھے اور ان کے گھر پر بھی پیپلزپارٹی کا پرچم لہراتا تھا اب وہ جن کے گھروں پر پیپلزپارٹی کے پرچم لرہا رہے ہیں انہیں گالیاں تو دے رہے ہیں مگر اپنا ماضی بھول گئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پی کی سیکریٹری اطلاعات سینیٹر روبینہ خالد نے الیکشن کمیشن کی توجہ عمران نیازی اور پرویز خٹک کی طرف سے مخالفین کے خلاف غیرمہذب زبان استعمال کرنے کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ کے پی میں پی ٹی آئی کو اپنی شکست واضح نظر آرہی ہے اسی وجہ سے وہ گالی گلوچ پر اتر آئے ہیں۔ سینیٹر رویبنہ خالد نے کہا کہ عمران نیازی نے تو سیاسی مخالفین پر الزام تراشی کے بعد پنجاب والوں کو گدھے کے نام سے تعبیر کیا جبکہ پرویز خٹک اپنے جلسوں میں پختونوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…