پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

محکمہ صحت:بچوں کو آنول کاٹنے کا طریقہ بدلنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 7  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پچاس کی دہائی سے دنیا بھر اور خاص کر برطانیہ مین دائیوں کو بچوں کی پیدائش کے فوری بعد چند سیکنڈزکے اندر اندر آنول کاٹنے کا طریقہ سکھایا جاتا تھا تاہم اب محکمہ صحت نے جدید تحقیقات کی روشنی میں حکم دیا ہے کہ اس طریقے کو تبدیل کیا جائے اور کم از کم بھی ایک منٹ تک انتظار کیا جائے، جس کے بعد بچے کی آنول کو اس کے جسم سے علیحدہ کیا جائے۔ اس طریقے کے بدلنے سے برطانیہ کی ایک عمر رسیدہ دائی امانڈا برلیف بے حد خوش ہیں۔ امانڈا کا ماننا تھا کہ ماضی میں آنول کو فوری طور پر کاٹنے کی ہدایت اس لئے دی جاتی تھی کہ ماں کو دی جانے والی ہارمونز پر مبنی ادویات بچوں کے دوران خون میں شامل ہوکے صحت کے مسائل نہ پیدا کریں۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب ان ادویات کو محفوظ ادویات سے بدل دیا گیا تو امانڈا کی جانب سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا اس طریقے کو جاری رکھا جاناچا ہئے یا آنول کاٹنے کے اس طریقے کو بھی بدل ڈالنے کی ضرورت ہے۔ امانڈا اس کیلئے گزشتہ دس برس سے جدوجہد کررہی تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ آنول کو فوراً کاٹ ڈالنے کا عمل جبکہ اس میں ابھی جان باقی ہوتی ہے، دراصل بچے کو پلیسینٹا سے موصول ہونے والے اہم سیلز اور غذائی اجزائ سے محروم کردیتا ہے۔ امانڈا نے اپنے یہ خیالات جب اپنے ساتھیوں کے سامنے دوہرائے تو اسے کہا گیا کہ اسے اپنے خیالات کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس دلائل کی ضرورت ہوگی اور خوش قسمتی سے برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم یہ جاننے میں کامیاب رہی کہ آنول کو فوری طور پر کاٹ ڈالنے سے بچے کو اس کے اپنے جما شدہ خون کے ایک تہائی حصے سے محروم کیا جاسکتا ہے نیز آئرن کی کمی سے ہونے والے اینیمیا کا بھی خطرہ بڑھ سکتا ہے جو کہ بچے میں سیکھنے کے عمل کو سست بنا سکتا ہے۔ اب برلیف اور ان کے ساتھیوں کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور برطانوی قومی ادارہ برائے صحت نے اپنے نئے ہدایت نامے میں حکم جاری کیا ہے کہ ڈاکٹر اور دائیاں بچے کی آنول پیدائش کے ایک منٹ کے اندر اندر آنول کو مت کاٹیں اور ایک سے پانچ منٹ تک کے بیچ انتظار کے بعد اسے کاٹیں یا پھر اس مدت کے بعد ماں کی رضامندی سے اسے کاٹیں۔ برلیف کو حال ہی میں برٹش جرنل آف مڈوائفری کی جانب سے مڈوائف آف دی ایئر قرار دیا گیا ہے۔ برلیف خوش ہیں کہ برطانوی ادارہ صحت نے آخر کار ان کے دعوے کو سچ مان لیا۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کا یہ دعویٰ عام مشاہدے پر مبنی تھا جسے بھانپنا کسی بھی عام ذی شعورکیلئے ممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…