اسلام آباد (نیوزڈیسک) نگران دور کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب راو افتخار نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے صوبائی الیکشن کمشنر کی جانب سے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کی سوجھ بوجھ رکھنے والے 200 افراد مانگے جانے کا اعتراف کر لیاجبکہ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک نے کہاہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ، فیصلہ جوڈیشل کمیشن کو کرنا ہے۔چیف سیکرٹری پنجاب نے نہیں۔عام انتخابات میں مبینہ منظم دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کااجلاس چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں ہوا کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے پہلے گواہ کے بیان پر جرح مکمل ہو گئی سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں الیکشن کمیشن سے 200افراد بھجوانے کی درخواست موصول ہوئی تھی اور یہ پیغام انہیں سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری راو افتخار کے ذریعے ملا تھا۔سابق چیف سیکرٹری پنجاب جاوید اقبال نے زائد بیلٹ پیپرز کی چھپائی سے متعلق لاعلمی کا اظہارکیااور کہاکہ پرنٹنگ میٹریل حکومت پنجاب نے آرمی کی نگرانی میں متعلقہ حلقوں تک پہنچایااور بعض حلقوں میں پولنگ میڑیل دیر سے پہنچنے پر الیکشن کمیشن سے احتجاج بھی کیا۔ کمیشن میں پیش ہونےوالے دوسرے گواہ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب راو افتخار نے اپنے بیان میں کہاکہ پرنٹنگ کا کام کرنے والے 200افراد کی خدمات حاصل کرنے کا کہا گیاصوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ اردو بازار سے یہ افراد مل جائیں گے،صوبائی الیکشن کمشنر انور محبوب نے ان افراد کی معاونت حاصل کرنے کاکہاتھاتاہم وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ درخواست نارمل تھی یا نہیں ،یہ بھی نہیں معلوم کہ ضرورت پوری کی گئی یا نہیںدوران کارروائی راوافتخارکے بیان سے متعلق اگست 2013میں نشر ہونے والے ٹی وی پروگرام کا وڈیو کلپ بھی چلایا گیا ، اس میں انہوں نے کہاکہ 200افراد مہیا کردئیے گئے تھے۔ چیف جسٹس کے استفسار پر جاوید اقبال نے بتایا کہ انہوں نے پانچ اپریل کو عہدہ سنبھالا اور اٹھارہ مئی کو چھوڑ دیا تھا۔ تحریک انصاف کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا انتخابات سے قبل نو مئی کو الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کیلئے 200 افراد مانگے تھے۔ جس پر جاوید اقبال نے کہا کہ یہ درخواست ایڈیشنل چیف سیکرٹری راو افتخار سے کی گئی تھی معاملہ نگران وزیراعلیٰ نجم سیٹھی کے سامنے بھی رکھا گیا درخواست میں اردو بازار کا ذکر بھی تھا تاہم انہیں اضافی بیلٹ پیپرز کا علم نہیں سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری راو افتخار نے کمیشن کے روبرو بتایا کہ ان کی تقرری آٹھ اپریل کو ہوئی اور وہ ستائیس مئی دو ہزار تیرہ تک عہدے پر رہے۔ عبدالحفیظ پیرزادہ کی جرح کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ صوبائی الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی پرنٹنگ کی سمجھ بوجھ رکھنے والے 200 افراد مانگے تھے۔ صوبائی الیکشن کمشنر نے انہیں خود کال کی تھی جس پر کمشنر راولپنڈی اور لاہور کو تعاون کی ہدایت کی۔ کمیشن کا اجلاس اب جمعرات دن گیارہ بجے ہوگا۔ اس دوران محبوب انور پر جرح کی جائے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس ناصر الملک نے کہاہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ، فیصلہ جوڈیشل کمیشن کو کرنا ہے ،چیف سیکرٹری پنجاب نے نہیں۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کا 200 افراد مانگے جانے کا اعتراف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ووزی ناں (Vozinha)
-
عامر خان کی اہلیہ گوری سپراٹ کتنے اثاثوں کی مالک ہیں؟
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑی کمی
-
دورانِ سروس وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کے لیے بڑا فیصلہ
-
غیر ملکی خواتین سے اجتماعی زیادتی، 3 ملزمان کا ڈی این اے میچ کر گیا
-
23 سال سے مجھے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، کرسٹیانو رونالڈو
-
سولر پینلز کی قیمتوں میں بڑی کمی، بیٹریاں اور انورٹرز بھی سستے ہوگئے
-
تیل کی قیمت میں 26 سالوں میں سب سے بڑی کمی
-
سعودی عرب جانے والے افراد کیلئے خوشخبری
-
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں
-
راولپنڈی کے 150 سال پرانے کیس میں 3 گرفتاریاں، ملزمان کا 4 روزہ ریمانڈ حاصل
-
بچوں کے لیے نادرا جووینائل کارڈ بنوانے کا آسان طریقہ کار جانیے
-
تمھارے لیے کماتا ہوں، میری خواہش پوری کرو؛ بہو نے ناجائز مطالبے پر سسر کوہلاک کردیا
-
صحت کارڈ سے کینسر اور کارڈیک سرجری کا علاج ختم



















































