بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

یہ چیز بھی شوگر کی وجہ بن سکتی ہے ،جدید تحقیق میں حیران کن انکشافات

datetime 9  جولائی  2018 |

میسوری(مانیٹرنگ ڈیسک) بظاہر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے مرض کے درمیان دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلودگی بھی ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ فضائی آلودگی سے ہر سال سانس، پھیپھڑوں کے کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں سے لاتعداد اموات ہورہی ہیں۔ لیکن اب اس کا ذیابیطس سے بھی تعلق دریافت ہوا ہے۔

سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا انکشاف کیا ہے۔ یہ تحقیق لینسٹ پلانیٹری ہیلتھ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکی فوجیوں کا ساڑھے آٹھ سال تک مطالعہ کیا گیا ہے جو ذیابیطس کے شکار نہ تھے۔اس مطالعے میں کئی ماڈلوں پر تحقیق کی گئی ہے جن میں فضا میں سوڈیم کی موجودگی اور نچلے اعضا میں فریکچر کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ اس بنا پرماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہر سال 32 لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں۔ تحقیق کے سینئر محقق زائد ال علی نے کہا، ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان گہرا تعلق تھا۔ یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او اور امریکی محکمہ ماحولیات کے تعین کردہ آلودگی کے کم معیار پر بھی ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔اب تک ماہرین ذیابیطس اور آلودگی کے درمیان تعلق کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔ تاہم آلودگی کے اجزا سانس کے ذریعے جسم کے اعضا اور ٹشوز تک میں جذب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سے جسم میں انسولین کی حساسیت متاثر ہوتی ہے جس سے لوگ شوگر کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک اس سے زیادہ لوگ متاثر ہورہے ہیں جن میں بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے کیونکہ وہاں فضائی آلودگی قدرے کم ہے۔ دوسری جانب آلودگی کی کم ترین سطح بھی انسانوں میں ذیابیطس پیدا کرسکتی ہے۔پوری دنیا میں ہوا کے معیار کا ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے اور 2018 کا قدرے اضافی ڈیٹا بیس ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے 80 فیصد شہروں میں ہوا کا معیار بہت برا ہے جو کسی بھی طرح ڈبلیو ایچ او کے معیارات کے تحت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…