بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

یہ چیز بھی شوگر کی وجہ بن سکتی ہے ،جدید تحقیق میں حیران کن انکشافات

datetime 9  جولائی  2018 |

میسوری(مانیٹرنگ ڈیسک) بظاہر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے مرض کے درمیان دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا لیکن اب ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آلودگی بھی ذیابیطس کی وجہ بن سکتی ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ فضائی آلودگی سے ہر سال سانس، پھیپھڑوں کے کینسر، امراضِ قلب اور دیگر بیماریوں سے لاتعداد اموات ہورہی ہیں۔ لیکن اب اس کا ذیابیطس سے بھی تعلق دریافت ہوا ہے۔

سینٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن نے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان تعلق کا انکشاف کیا ہے۔ یہ تحقیق لینسٹ پلانیٹری ہیلتھ نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں امریکی فوجیوں کا ساڑھے آٹھ سال تک مطالعہ کیا گیا ہے جو ذیابیطس کے شکار نہ تھے۔اس مطالعے میں کئی ماڈلوں پر تحقیق کی گئی ہے جن میں فضا میں سوڈیم کی موجودگی اور نچلے اعضا میں فریکچر کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ اس بنا پرماہرین نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی سے ہر سال 32 لاکھ افراد ذیابیطس میں مبتلا ہورہے ہیں۔ تحقیق کے سینئر محقق زائد ال علی نے کہا، ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ پوری دنیا میں فضائی آلودگی اور ذیابیطس کے درمیان گہرا تعلق تھا۔ یہاں تک کہ ڈبلیو ایچ او اور امریکی محکمہ ماحولیات کے تعین کردہ آلودگی کے کم معیار پر بھی ذیابیطس لاحق ہوسکتی ہے۔اب تک ماہرین ذیابیطس اور آلودگی کے درمیان تعلق کو سمجھ نہیں سکے ہیں۔ تاہم آلودگی کے اجزا سانس کے ذریعے جسم کے اعضا اور ٹشوز تک میں جذب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح سے جسم میں انسولین کی حساسیت متاثر ہوتی ہے جس سے لوگ شوگر کے مرض میں مبتلا ہورہے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غریب ممالک اس سے زیادہ لوگ متاثر ہورہے ہیں جن میں بھارت اور انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہیں جبکہ کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے کیونکہ وہاں فضائی آلودگی قدرے کم ہے۔ دوسری جانب آلودگی کی کم ترین سطح بھی انسانوں میں ذیابیطس پیدا کرسکتی ہے۔پوری دنیا میں ہوا کے معیار کا ایک ڈیٹا بیس بنایا گیا ہے اور 2018 کا قدرے اضافی ڈیٹا بیس ظاہر کرتا ہے کہ دنیا کے 80 فیصد شہروں میں ہوا کا معیار بہت برا ہے جو کسی بھی طرح ڈبلیو ایچ او کے معیارات کے تحت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…