برلن(نیوزڈیسک)یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کے مطابق یمن کے تنازعے اور بحرانی صورت حال نے القاعدہ کے لیے دروازہ کھول دیا ہے۔ موگرینی کے مطابق بین الاقوامی برادری کو وہاں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے۔سعودی سربراہی میں عرب اتحادی ممالک نے رواں برس مارچ سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ایرانی حمایت یافتہ حوثی جنگجوو¿ں نے، جنہیں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوجی کی مدد بھی حاصل ہے، یمن کے زیادہ تر حصوں پر کنٹرول حاصل کر رکھا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہوں نے یہ کارروائیاں یمن سے القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے خلاف مہم جوئی کے نام پر کی تھیں۔ان باغیوں نے گزشتہ برس ستمبر میں یمنی دارالحکومت صنعاءکا بھی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ ملکی صدر منصور ہادی رواں برس جنوری میں صنعاءسے فرار ہو کر ساحلی شہر عدن چلے گئے تھے جو ان کے حامیوں کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم حوثیوں کی طرف سے عدن کی جانب پیش قدمی کے بعد وہ ملک چھوڑ کر سعودی عرب چلے گئے تھے۔سعودی سربراہی میں نو عرب ممالک کا اتحاد امریکا، برطانیہ اور فرانس کی تعاون کے ساتھ یمن میں منصور ہادی کی حکومت بحال کرانے کی کوششوں میں ہے۔اپنے دورہء چین کے دوران بیجنگ میں طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے یورپی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگرینی کا کہنا تھا کہ یمن کی صورت حال انتہائی نقصان دہ ہے۔ پیکنگ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران موگرینی کا کہنا تھا، ”میں سمجھتی ہوں کہ یہ انتہائی خطرناک ہے کیوں کہ القاعدہ اس خلا کو پ±ر کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو لاقانونیت کی صورتحال کے باعث پیدا ہوئی ہے۔“ ان کا مزید کہنا تھا، ”ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی تمام تر توجہ بین الاقوامی مصالحت کاری پر مرکوز کریں۔“عرب اتحادی ممالک نے رواں برس مارچ سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہےعرب اتحادی ممالک نے رواں برس مارچ سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہےفیدریکا موگرینی کا مزید کہنا تھا، ”کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ یک طرفہ حل عام طور پر کام نہیں کرتے اور خاص طور پر یمن جیسی صورت حال میں بالکل کام نہیں کرتے جہاں مقامی سطح پر تنازعے کی جڑیں خاصی گہری ہیں اور پھر اسے پیچیدہ علاقائی صورت حال میں دھکیل دیا جاتا ہے۔“یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کا اس موقع پر مزید کہنا تھا کہ یورپی یونین اس بات پر چین کا شکر گزار ہے کہ اس نے غیر ملکی رہائشیوں کو یمن سے نکالنے میں مدد دی۔ انہوں نے چین پر زور دیا کہ وہ اس تنازعے کو حل کرانے کے سلسلے میں اب اس سے بھی بڑی ذمہ داری ادا کرے: ”سکیورٹی کے حوالے سے جاری اس صورت حال سے صرف یورپ ہی نہیں چین بھی متاثر ہو سکتا ہے۔“اپنے تیل کی ضروریات کا زیادہ تر حصہ مشرق و±سطیٰ سے درآمد کرنے والے ملک چین نے یمن تنازعے کے حوالے سے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن میں جنگ بندی کی جائے اور اس مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔
یمن بحران نے القاعدہ کا راستہ کھول دیا ہے، یورپین یونین
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
پاکستان کی معروف ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے بارے بڑی پیشگوئی کر دی
-
وزیراعظم کا سرکاری ملازمین کے لیے بڑا اعلان
-
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں ، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا...
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
وزیراعظم نے عید الفطر کی تعطیلات کی منظوری دے دی
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
سعودی عرب میں جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
معروف سٹیج اداکارہ دیدار کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا



















































