منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ریحام خان تمہیں اس گھٹیا حرکت پر شرم آنی چاہئے، سستی شہرت حاصل کرنے کیلئے داڑھی والی تصویر لگا کر اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا،معروف اینکر پرسن پھٹ پڑے،توبہ کرنے کا طریقہ بتا دیا

datetime 1  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کی جانب سے گزشتہ روز اپنی داڑھی والی تصویر ٹوئٹرپر شیئر کی گئی جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ۔اسی تناظر میں نجی ٹی وی کے اینکر پرسن علی حیدر نے ریحام خان کی اس حرکت پر شدید تنقید کی ۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ریحام خان نے داڑھی لگا کر ایک ٹوئٹ کیااور کہا کہ یہ میری کتاب کا کور فوٹو ہونا چاہئے۔

ریحام خان مذہب کا مذاق مت اڑائیے۔آپ کی پردے والی تصاویر بھی سامنے آتی ہیں اورکبھی مغربی لباس کی تصویریں سامنے آتی ہیں ۔آپ خود فیصلہ کرلیں آپ کیا کرنا چاہتی ہیں ؟آپ کی مرضی ہے آپ پر کوئی زبردستی مسلط نہیں کی جاسکتی ۔کم از کم آپ جس طرح اسلامی اقدار کا مذاق اڑا رہی ہیں آپ کو اس حرکت پر شرم آنی چاہئے۔آپ کسی پر فتوے تو لگا دیتی ہیں۔عمران خان کی ایک ویڈیو جس میں وہ سجدہ یا بوسہ کر رہے ہیں آپ نے اس پر خود فتوے لگائے تھے اور اب آپ خود داڑھی کا مذاق اڑا رہی ہیں۔آپ یہ سب کچھ کر کے سستی شہرت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں کس طرح آپ کی اس حرکت کی مذمت کروں۔داڑھی والی تصویر ٹوئٹر پر شیئر کرنے کے بعد جو ردعمل سامنے آیا آپ اس سے بخوبی واقف ہیں ۔پاکستانیوں نے آپ کی اس گھٹیا حرکت کو قبول نہیں کیا۔ریحام خان کو چاہئے کہ فوراً اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیں اور آئندہ ایسی اوچھی حرکت نہ کریں۔اسے ریحام خان کی بد قسمتی کہا جائے یا کچھ اور انہوں نے جس داڑھی والی تصویر کواپنی تصویر کے ساتھ ایڈٹ کیا وہ مفتی اسماعیل مینک کی تھی جسے انہوں نے نہ صرف دیکھا بلکہ انتہائی منفرد اور دلچسپ انداز میں اس پر تبصرہ کرتے ہو ئے مشورہ بھی دیا ۔

مفتی اسماعیل مینک نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں تحریر کیا کہ وہ کبھی پاکستان نہیں گئے اور نہ ہی وہاں کی سیاسی معاملات کو سمجھتا ہوں البتہ ریحام کیلئے مشورہ ہے کہ وہ کیپ ٹاؤن میں واقع عالیہ کلینک ضرور جائیں وہاں ان کو اپنے مسائل کا حل مل جائے گا ۔واضح رہے عالیہ بیوٹی کلینک معروف بیوٹی کلینک ہے جہاں میک اپ کی سہولیات فراہم کرنے کے علاوہ بازووں، ٹانگوں اور چہرے کے غیر ضروری بالوں کو لیزر کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے ۔مفتی اسماعیل مینک کے جواب سے سوشل میڈیا صارفین نہ صرف محظوظ ہو رہے ہیں بلکہ مذہبی جماعتوں کے رہنمابھی تبصروں میں مصروف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…