منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ججوں کو اب سوچ لینا چاہئے کہ۔۔ طویل عرصہ منظر سے غائب رہنے کےبعد علی احمد کرد ایک بار پھر میدان میں آگئے ، سپریم کورٹ کے ججز بارے دبنگ بیان داغ دیا

datetime 29  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز کی بحالی میں کردار ادا کرنے والے وکیل علی احمد کرد سے کون واقف نہیں ، اپنے دبنگ انداز اور بے لاگ رائے کی وجہ سے مشہور علی احمد کرد ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں تاہم اس بار وہ عدلیہ کی بحالی یا تحفظ کی کسی تحریک کے بجائے اعلیٰ عدلیہ کو متنبہ کرتے نظر آرہے ہیں۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ ججوں کو الیکشن کے مہینے میں فیصلے دیتے ہوئے سوچنا چاہئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی فیصلہ پبلک ڈاکومنٹ ہوتا ہے اور اس پر ہر شخص اپنی رائے دینے کا حق رکھتا ہے اگر کوئی رائے اظہار میں تھوڑی حدود کراس کر لے تو وہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد نے کہا کہ پہلے بھی سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں کے فیصلوں پر لوگوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔علی احمد کرد کا کہنا تھا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیخلاف مقدمات میں پیش کیا جانیوالا مواد نوعیت کے اعتبار سے ایک جیسا تھا لیکن عمران خان کو کلین چٹ اور جہانگیر ترین کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا ، اب ایسا کیا ہے تو لوگوں کی سوچ پر پہرے تونہیں لگائے جاسکتے ، دانیال عزیز اگر کہتے ہیں کہ اس کیس کے فیصلے میں دال میں کچھ کالا ہے تو وہ اسکینڈلائز نہیں کررہے ،اپنی رائے دے رہے ہیں، پچھلے ڈیڑھ سال میں عدالتوں سے جو فیصلے آئے لوگ انہیں قبول نہیں کررہے ہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ روز دانیال عزیز کے خلاف توہین عدالت کیس میں انہیں توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت برخاستگی تک روسٹرم میں کھڑا رہنے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد قانونی طور پر دانیال عزیز 5سال کیلئے نا اہل ہو گئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…