ہفتہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2026 

نیپال میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو گئی

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیپال میں آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لیے 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے زائد رقم درکار ہے۔ نیپال میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بدبو اور تعفن کے باعث لوگ ماسک لگا کر روزمرہ کے کاموں میں حصہ لے رہے ہیں ،لوگوں نے صبح کے اوقات میں عبادت گاہوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے،دربار اسکواِئر کے کچھ حصوں سے ملبہ اٹھا لیا گیا ہے۔ یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والا دربار اسکوائر زلزلے میں شدید متاثر ہوا تھا،ماہرین آثارقدیمہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی روثہ قرار دئیے جانے والی عمارتوں کو گزشتہ حالت میں لانے کےلئے کروڑوں ڈالر اور کئی سال کا عرصہ درکار ہے۔ نیپال کی 80 سالہ تاریخ کے بد ترین زلزلے نے بچوں کے ذہن پر ایسے اثرات مرتب کیے ہیں جن سے نکلنے کے لیے وقت لگے گا، کٹھمنڈو کے عارضی کیمپوں میں بچے اس صدمے کو بھلانے کے لیے کھیلتے کودتے نظرآئے۔ زلزلے کے نتیجے میں 1 کروڑ 70 لاکھ بچے متاثر ہوئے ہیں۔ ادھر کھٹمنڈو کے مشرقی گاوں سے برفانی تود ے میں دبے 100 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں۔ علا وہ ازیں نیپال میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو 11 دن گزر جانے کے باوجود امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں امدادی سامان کی اتنی مقدار میسر نہیں جتنی متاثرین کی مدد کے لیے درکار ہے۔25 اپریل کو ریکٹر سکیل پر 7.8 کی شدت کے زلزلے سے اس جنوبی ایشیائی ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور اب تک سات ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور دس ہزار کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔اس وقت دنیا بھر سے4,000 سے زائد امدادی کارکن متاثرین کی مدد کے لیے نیپال میں موجود ہیں۔نیپالی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جاری امدادی کارروائیوں کو مربوط بنانے اور اس سے متعلقہ صورتحال پر قابو پانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔تاہم دارالحکومت کھٹمنڈو کے شمال مشرق میں چتارا کے علاقے میں دو دن گزرانے والے بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں اور ان کی بےتابی میں اضافہ ہو رہا ہے۔برطانوی امدادی ادارے ڈِزاسٹرز ایمرجنسی کمیٹی (ڈی ای سی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں متاثرین کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں۔12 خیراتی اداروں پر مشتمل اس تنظیم کا کہنا ہے کہ نیپال کے زلزلے سے پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔برطانوی امدادی ادارے ڈی ای سی کے ترجمان نے بتایا کہ انھیں اسہال اور سینے میں انفیکشن کی متعدد رپورٹیں پہلی ہی موصول ہو چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…