منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

قرض معاف کروانیوالے کتنی رقم جمع کروا کے بچ سکتے ہیں، چیف جسٹس نےاربوں معاف کروانے والوں کوکونسے دو آپشن دے دئیے؟

datetime 26  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) چیف جسٹس ثاقب نثار نے قرض معافی کیس پر ریمارکس دیئے کہ قرض معافی کرانے والے خوش اسلوبی سے رقم واپس کردیں‘ جن لوگوں نے قرض معاف کرائے وہ اصل رقم کا 75 فیصد واپس کریں‘ واپس کی گئی رقم سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جائے گی‘ مشہوری کے لئے یہاں نہیں بیٹھا۔ منگل کو سپریم کورٹ میں قرض معافی کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار

نے کہا کہ کوشش ہے معاف کئے گئے قرضوں کی رقم واپس ملے۔ قرضہ معاف کرانے والے خوش اسلوبی سے رقم واپس کردیں۔ قرض واپسی پر مارک اپ بھی معاف ہوسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے رقم واپس نہ کرنے پر معاملہ نیب کو بھجوا دیں۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتے جن لوگوں نے قرض معاف کرائے وہ اصل رقم کا 75 فیصد واپس کریں یہ معاملہ نیب کو بھیج دیا تو گڑ بڑ نکل آئے گی۔ قرض کی رقم قومی فنڈز میں نہیں جائے گی واپس کی گئی رقم سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جائے گی اس قوم پر بہت قرض ہے قرض معاف کرانے والوں کے پاس دو آپشن ہیں پہلا آپشن مقدمات کا سامنا کریں دوسرا آپشن پچھتر فیصد رقم واپس کریں جس نے آپشن لینا ہے تحریری طور پر بتا دے۔ ایسے لوگوں کی جائیداد بھی ضبط کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کا ایک ایک پیسہ وصول کرنا ہے۔ مشہوری کے لئے یہاں نہیں بیٹھا۔ ایسا نہ کرسکا تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟ قرضہ معاف کرانے والے خوش اسلوبی سے رقم واپس کردیں۔ قرض واپسی پر مارک اپ بھی معاف ہوسکتا ہے ۔ ہوسکتا ہے رقم واپس نہ کرنے پر معاملہ نیب کو بھجوا دیں۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتے جن لوگوں نے قرض معاف کرائے وہ اصل رقم کا 75 فیصد واپس کریں یہ معاملہ نیب کو بھیج دیا تو گڑ بڑ نکل آئے گی۔ قرض کی رقم قومی فنڈز میں نہیں جائے گی واپس کی گئی رقم سپریم کورٹ کے اکائونٹ میں جائے گی اس قوم پر بہت قرض ہے قرض معاف کرانے والوں کے پاس دو آپشن ہیں پہلا آپشن مقدمات کا سامنا کریں دوسرا آپشن پچھتر فیصد رقم واپس کریں جس نے آپشن لینا ہے تحریری طور پر بتا دے۔ ایسے لوگوں کی جائیداد بھی ضبط کرائیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوم کا ایک ایک پیسہ وصول کرنا ہے۔ مشہوری کے لئے یہاں نہیں بیٹھا۔ ایسا نہ کرسکا تو یہاں بیٹھنے کا کیا فائدہ؟قرض معافی سے متعلق کیس کی سماعت (آج) بدھ کو دوبارہ ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…