اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

وحید عالم بھی میدان میں آ گئے، زعیم قادری کو احسان فراموش اور حلقے کو شریف خاندان کی جاگیر قرار دیدیا، زعیم قادری اور ان کی بیوی کیا کچھ کرتی رہیں؟ سنگین الزامات عائد

datetime 22  جون‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے ناراض رہنما زعیم قادری کی پریس کانفرنس میں آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے اور ن لیگ والوں کو کھری کھری سنانے پر حلقہ این اے 133 سے ن لیگ کے امیدوار وحید عالم بھی میدان میں آ گئے، پریس کانفرنس کے دوران وحید عالم نے کہا کہ زعیم قادری کی لیگی قیادت سے متعلق ساری باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں، وحید عالم نے کہا کہ زعیم قادری دو مرتبہ ایم پی اے بنے اور دونوں مرتبہ وزیر بھی رہے،

اس کے علاوہ زعیم قادری کی بیوی بھی ایم پی اے رہیں،پھر بھی زعیم قادری کہتے ہیں کہ پارٹی نے ان کو کیا دیا۔ ن لیگ میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات میں شدت آ چکی ہے، وحید عالم نے پریس کانفرنس میں زعیم حسین قادری کو احسان فراموش اور حلقہ کو شریف خاندان کی جاگیر قرار دے دیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران وحید عالم نے کہا کہ زعیم قادری کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ حلقہ حمزہ شہباز،نوازشریف اورشہباز شریف کی جاگیر ہے۔ اس موقع پر وحید عالم نے کہا کہ ن لیگ نے مجھے این اے 133 کا ٹکٹ دیا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی کو غلط فہمی ہے کہ ووٹ اس کا ہے تو وہ یہ جان لے کہ ووٹ صرف نواز شریف کا ہے۔ ووٹر نواز شریف کے نام پر ہی ووٹ دیتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنماء زعیم قادری نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وہ این اے 133 سے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے، پریس کانفرنس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق ان سے ملنے کے لیے آئے اور انہوں نے لیگی قیادت کا پیغام بھی زعیم قادری کو دیا، خواجہ سعد رفیق نے انہیں پریس کانفرنس کرنے سے روکنے کی کوشش کی لیکن زعیم قادری نے اس کے باوجود پریس کانفرنس کی اور کہا کہ میں حمزہ شہبازشریف کے بوٹ پالش نہیں کرسکتا،میں سید ہوں،اولاد امام حسین ہوں،جان دے سکتا ہوں عزت نہیں دوں گا،

انہوں نے کہا کہ حمزہ شہباز لاہور تمہاری اور تمہارے باپ کی جاگیرنہیں ہے،تمہیں سیاست کرکے دکھاؤں گا۔انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے ناراضگی کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 8اکتوبر 1999ء کو مسلم لیگ ن میں ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے عملی سیاست کا آغاز کیا۔انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شہبازشریف نے 2008ء کے شروع میں فون پربتایا کہ صدرکو تمہاری شکل پسند نہیں اس لیے جنرل سیکرٹری کا عہدہ چھوڑ دو۔زعیم قادری نے کہا کہ میں نے کوئی دوسرا سوال نہیں کیا،انہوں نے کہا کہ پچھلے دس برس میں وہ لوگ جوپارٹی میں نہیں تھے ان کووزراء بنایا گیا۔لیکن انہوں نے پارٹی کا کوئی دفاع نہیں کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے روزپانچ گھنٹے ٹی وی پراپنی سیاست اور جماعت کودفاع کیا۔انہوں نے اس موقع پر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میں جیت کر دکھاؤں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…