جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ملک تباہی کے دھانے پر، ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر ملکی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بن گئی،عوام مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہے ہیں ، حکومت چین کی بانسری بجانے میں مصروف،لرزہ خیز انکشافات

datetime 20  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) ایف پی سی سی آئی کے چئیرمین کوآردینیشن ملک سہیل نے کہا ہے کہ روپے کے مقابلہ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قدر ملکی معیشت کیلئے بڑا خطرہ بن گئی ہے۔عوام مہنگائی کے سیلاب میں ڈوب رہے ہیں مگر ارباب اختیار چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ کھلی منڈی میں ڈالر ایک سو پچیس روپے کا ہو گیا ہے ۔ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ کے سبب اسکے بیچنے والے کم اور خریدار بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے اسکی طلب بڑھ رہی ہے جبکہ مرکزی بینک خاموش تماشائی بنا ہوا ہے جو بے رحمی ہے۔

ملک سہیل حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ کھلی منڈی سے ڈالر کے غائب ہونے سے بیرون ملک جانے والے پریشانی میں مبتلاء ہو گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دسمبر2017 سے اب تک ڈالر کی قدر میں سترہ روپے سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے جو پالیسی سازوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈالر کی اڑان نے سی پیک سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں اور پیداواری لاگت بڑھا دی ہے، عوام کی کم توڑ دی ہے جبکہ غیر ملکی قرضوں میں چھ سو ارب سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو غیر ملکی قرضوں میں بیٹھے بٹھائے ایک کھرب سے زیادہ کا اضافہ ہو جائے گا۔جب تک مرکزی بینک منڈی میں معنیٰ خیز مداخلت نہیں کرتا ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ ڈالر کے کھلی منڈی کے ریٹ اور انٹر بینک ریٹ میں بڑھتا ہوا فرق ہنڈی اور حوالے کے کاروبار کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے جس کا حل اس فرق کو کم کرنے بینکنگ کے شعبہ میں اصلاحات ہے ورنہ ترسیلات کا حجم کم ہو جائے گا جس سے ملک کے مسائل میں مزید اضافہ ہو گا۔ملک سہیل نے کہا کہ ہنڈی کے زریعے رقوم کی ترسیل بینکنگ کے زریعے رقوم کی ترسیل سے زیادہ پر کشش ہوتی جا رہی ہے ہے جو ملکی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے ۔برامدات اور سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ترسیلات کو توجہ دینے کی ضرورت ہے جسکے لئے مین پاور ایکسپورٹ کو بڑھانا ہو گا جسے مسلسل نطر انداز کیا جا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…