جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پریشان حال شریف خاندان پر ایک اور مصیبت ٹوٹ پڑی طاہر القادری کی ڈرامائی انٹری، دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 18  جون‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 4 سال گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت میں نہیں لایا جا سکا‘نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا‘امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائیگا‘اب چیف جسٹس کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی

بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا‘مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے‘ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماریوں کی شفاء کیلئے دعا گو ہیں۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 4 سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کی۔طاہر القادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نگران حکومت کے قیام کا انتظار تھا اور امید تھی کہ قاتلوں کو عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب چیف جسٹس آف پاکستان کے اس حکم پر عمل درآمد کا انتظار ہے جس میں چیف جسٹس نے 15 دن میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ مایوس نہیں ہیں، حق اور انصاف کی جدوجہد کرتے رہیں گے اور پر امید ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں کو سزا ملے گی۔الیکشن میں حصہ لینے کے سوال پر طاہر القادری نے کہا کہ موجودہ الیکشن پراسیس میں 62 اور 63 کی دفعات بھی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی طرح دفن ہو رہی ہیں، تمام گندگی لانڈری میں دْھل کر دوبارہ الیکشن میں جا رہی ہے۔سربراہ عوامی تحریک کا کہنا تھا کہ صادق اور امین کا قانون کسی ایک کیلیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہونا چاہیے۔طاہرالقادری نے کہا کہ وہ بیگم کلثوم نواز سمیت تمام بیماروں کی شفا یابی کے لیے دْعاگو ہیں تاہم کچھ یتیم بھی ہیں جو انصاف کے لیے بھٹک رہے ہیں، انہیں بھی انصاف ملنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…