بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عید پر یہ کام ہرگز نہیں کرنا ورنہ پچھتائیں گے،ماہرین نے عوام کو انتباہ کردیا

datetime 15  جون‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) بسیارخوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں‘دماغی کمزوری ‘ہائی بلڈ پریشر‘شوگرٗموٹاپااور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔مہینہ بھر روزے رکھنے کے بعد معدہ‘ جگر‘انتڑیوں‘ گردوں‘ پٹھوں اور جسم کے دیگر اعضاء کو مختلف امراض سے شفااورجو آرام میسر آتا ہے بعض افراد اسے ایک ہی دن میں خوب کھاپی کرضائع کر بیٹھتے ہیں۔

اس امر کا اظہارمرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنزپاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسرحکیم قاضی ایم اے خالد نے عیدالفطر کے موقع پرعوام الناس کو کھانے پینے میں خصوصی احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عید کے دن مرغن غذائیں مثلاًروسٹ بروسٹ ‘تکے کباب ‘کڑاہی گوشت ‘ہریسہ ‘قورمہ ‘بریانی ‘حلوہ پوری ‘قتلمہ ‘کیک‘ مٹھائیاں وغیرہ اورکولا مشروبات کا بے انتہا استعمال کرکے بیمار ہوجاتے ہیں۔غذائی بے اعتدالی کے باعث عید کے دنوں میں ڈائریا(پیچش )اسہال اور نظام ہضم کی خرابی کے مریضوں میں انتہائی اضافہ ہو جاتا ہے ۔عید کے ایام میں بیشتر ذیابیطس ‘بلڈ پریشراور دل کے مریض بھی غذائی بد احتیاطی کے باعث اپنے لئے مزید پریشانیاں مول لیتے ہیں لہذا اس سلسلے میں احتیاط کی پابندی لازم ہے روزہ دارافراد کو ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد زود ہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذایکدم بہت زیادہ مرغن غذاؤوں کے استعمال سے بچیں۔عید کے دن ناشتے میں دودھ سویاں دوپہرکو سبزی گوشت جبکہ رات کو بھی سادہ غذا کا استعمال کریں اس دوران موسمی پھلوں کا استعمال نیزکولا مشروبات کی جگہ فریش جوسز زیادہ سود مند ہیں۔یاد رہے کہ بسیارخوری صحت کیلئے سخت نقصان دہ ہے اعصابی بیماریاں‘دماغی کمزوری ‘ہائی بلڈ پریشر‘شوگراور پیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ رمضان المبارک ہمیں جو نظم وضبط اور اعتدال سکھاتا ہے رمضان کے بعد بھی اسی تسلسل کو قائم رکھ کر ہم مستقل صحتمندرہ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…