منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عراق میں افسوسناک حادثہ، پاکستانی خاتون پی آئی اے کے طیارے میں سوار ہوتے ہوئے نیچے گر کر جاں بحق ہوگئی

datetime 13  جون‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)ایک خاتون مسافرنثار فاطمہ جن کی عمر94 سال تھی اور وہ 12 جون کو نجف سے کراچی کے لئے پی آئی اے کی پرواز PK220 سے سفر کر نے والی تھیں طیارے میں سوار ہونے سے پہلے وہیل چیئر کے ذریعے ایمبولفٹر میں سوار ہوتے ہوئے گر گئیں۔

نجف میں پی آئی اے کو گراؤنڈ ہینڈلنگ فراہم کرنے والی عراقی ایجنسی نجف ائر پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس حادثے کے وقت مذکورہ خاتون کے عزیز بھی خلاف قانون ایمبو لفٹر میں سوار تھے جس کی وجہ سے ہینڈلنگ میں مشکلات پیش آئیں۔بزرگ خاتون مسافر کو گرنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں ان کو فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا جہاں پر بعد میں وفات پاگئیں۔ان کے رشتہ داروں کی خواہش پر ان کو نجف مقدس میں ہی دفن کر دیا گیا۔ ترجمان پی آئی اے نے بتایا کہ پی آئی اے کے عراق میں متعین اہلکار وفات پا جانے والی خاتون کے رشتہ داروں سے رابطہ میں رہے اور ان کو پی آئی اے کی جانب سے تدفین کے اخراجات سمیت ہر ممکن مدد فراہم کی۔ مرحومہ کے رشتہ داروں کو اگلی دستیاب پرواز کے ذریعے واپس پاکستان بھجواتے ہوئے ان کو آئندہ سفر کر نے کے لئے مفت ٹکٹ فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔ پی آئی اے کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول سیان نے محترمہ نثار فاطمہ کی ناگہانی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور ائر پورٹ مینیجر کو ہینڈلنگ ایجنسی سے کوتاہی پر جوب طلبی کرنے کو کہا ہے۔ واضح رہے کہ نجف ائر پورٹ پر پی آئی اے کی پروازوں کی ہینڈلنگ ایک مقامی عراقی ایجنسی نجف ائر پورٹ اتھارٹی کرتی ہے جس کو نوٹس جاری کردیا گیا ہے اور واقعہ کی تفصیلی رپورٹ فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ ایک خاتون مسافرنثار فاطمہ جن کی عمر94 سال تھی اور وہ 12 جون کو نجف سے کراچی کے لئے پی آئی اے کی پرواز PK220 سے سفر کر نے والی تھیں

طیارے میں سوار ہونے سے پہلے وہیل چیئر کے ذریعے ایمبولفٹر میں سوار ہوتے ہوئے گر گئیں۔ نجف میں پی آئی اے کو گراؤنڈ ہینڈلنگ فراہم کرنے والی عراقی ایجنسی نجف ائر پورٹ اتھارٹی کے مطابق اس حادثے کے وقت مذکورہ خاتون کے عزیز بھی خلاف قانون ایمبو لفٹر میں سوار تھے جس کی وجہ سے ہینڈلنگ میں مشکلات پیش آئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…