جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

داڑھی بارے ماہرین کا ایک اہم دعویٰ

datetime 5  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) یوں تو داڑھی فیشن کا حصہ بھی ہے اور روحانیت کی علامت بھی تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ داڑھی کی تراش خراش کی جانب زیادہ توجہ نہ دی جائے تو اس میں اس قدر جراثیم پیدا ہوسکتے ہیں جتنا کہ نیویارک شہر کے سب وے سسٹم کے خراب ٹوائلٹس میں ہوتے ہیں۔ نیو میکسیکو کی ایک لیب میں کی گئی اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دراصل داڑھی کے بالوں کی ساخت سر کے بالوں کی ساخت سے مختلف ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کی صفائی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ہوتا اس کے برعکس ہے اور مردوں کی اکثریت منہ دھوتے ہوئے داڑھی والے حصے پر سرسری سا صابن لگانے کو ہی کافی سمجھتی ہے اور یہی لاپرواہی پر مبنی رویہ جراثیم کی افزائش کا سبب بنتا ہے۔مذکورہ تحقیق کیلئے ماہرین نے داڑھی والے مردوں کے چہرے پر ٹشو پیپر پھیر کے جراثیم اکھٹا کئے تھے اور اس سے معلوم ہوا کہ داڑھی میں موجود جراثیم اس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں کہ ان سے یورینری ٹریک انفیکشنز بھی ہوسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ دراڑھی میں پائے گئے جراثیم دراصل وہی ہوتے ہیں جو کہ ٹوتھ برس، فون سمیت متعدد استعمال کی اشیا پر موجود ہوتے ہیں تاہم داڑھی میں ان کی موجودگی اس لئے خطرناک ہے کہ اول تو یہ انسانی جسم کا حصہ ہونے کے باعث انسانی صحت کیلئے خطرناک ہوتے ہیں دوئم یہ کہ چہرے کے بے حد قریب ہونے کی وجہ سے دیگر اقسام کی پیچیدگیوں کا باعث نیز دوسروں کو خطرناک جراثیم کی منتقلی جو کہ داڑھی میں موجودگی کے سبب ہوتی ہے، کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
داڑھی ان جراثیم کو خود سے اپنی جانب نہیں کھینچ لیتی ہے بلکہ یہ اس وقت اس میں داخل ہوتے ہیں جب آپ گندے ، جراثیم آلود ہاتھوں سے داڑھی کے بالوں کو چھیڑتے یا سنوارتے ہیں۔ اس لئے کوشش کریں کہ اپنے ہاتھ کو داڑھی میں ڈالنے سے ممکنہ حد تک پرہیز کریں۔ داڑھی کی صفائی پر خاص توجہ دیں اور جس طرح سر کے بالوں میں شیمپو لگانے کے بعد اسے کچھ دیر چھوڑتے ہیں، بالکل اسی طرح ان بالوں کو بھی شیمپو لگائیں اور کچھ دیر کیلئے چھوڑ دیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…