اسلام آباد(نیوز ڈیسک) اسلا م آ با د ہائی کورٹ نے شفقت حسین کی پھانسی پر ایک روز کے لئے عمل درآمد روکنے کا عبوری حکم دے دیا۔واضح رہے کہ شفقت حسین کی سزا کے وقت عمر کا تعین کرنے والی انکوائری کمیٹی نے فیصلہ سنایا تھا کہ فرد جرم عائد کیے جانے کے وقت شفقت کی عمر 23 برس تھی۔جس پر شفقت حسین نے اپنی عمر کی تصدیق کے لیے جوڈیشل انکوائری کی درخواست دائر کی تھی، درخواست میں عمر کے تعین کے لیے ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کی تحقیقات پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ شفقت حسین کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر رہے ہیں، منگل کو دوران سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ شفقت حسین کی عمر کے تعین کے لیے انکوائری کا حکم کس نے دیا؟حکومتی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری وزارت داخلہ کے حکم پر کی گئی۔جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت عظمی کے فیصلہ کے بعد وزارت داخلہ کی شفقت کی عمر کے حوالہ سے انکوائری کی کوئی حیثیت نہیں، انکوائری کمیٹی غیر قانونی ہے، کیوں نہ ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے؟یاد رہے کہ اس سے قبل بھی مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے تھے کہ مجرم کی عمر کا تعین کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری نہیں۔ یہ مجاز عدالتی فورم کا استحقاق تھا اور صرف اعلیٰ عدالت کی جانب سے مقرر کیا گیا عدالتی فورم ہی ملزم کی عمر کا تعین کرسکتا ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو بھی ہدایت کی تھی کہ وہ مجرم کی عمر کا تعین کرنے کے لیے کی گئی انکوائری کی قانونی حیثیت کی وضاحت کریں۔عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ صدر کے پاس زیرِالتوائ شفقت حسین کی رحم کی اپیل کی حیثیت کے بارے میں بھی عدالت کو مطلع کریں۔ منگل کو کیس کی سماعت کے بعد عدالت نے فریقین کے وکلاءکو آ ج تک دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے شفقت حسین کی پھانسی پر حکم امتناعی جاری کردیا۔جس کے تحت عدالتی فیصلہ آنے تک شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد نہیں کیا جاسکتا۔یاد رہے کہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے شفقت حسین کے 6 مئی کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔جبکہ اس سے قبل 19 مارچ کو شفقت حسین کو تختہ دار پر لٹکانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔صدر ممنون حسین نے 18مارچ کو شفقت کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی، تاہم مجرم کی عمر کے تعین کیلئے 30روز کے لیے پھانسی کی سزا روک دی گئی تھی۔یاد رہے کہ شفقت حسین نے2001 میں 5 سالہ بچے عمیر کو قتل کیا تھا،
مزید پڑھئے:سونم کپور اور فواد خان فلم ” بٹل “ فاربیٹو میں ایک ساتھ جلوہ گر ہوں گے
جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے اسے 2004 میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔شفقت کی رحم کی اپیلیں 2006 میں ہائی کورٹ، 2007 میں سپریم کورٹ جبکہ 2012 میں صدر مملکت کی جانب سے مسترد کی جا چکی ہیں۔



















































