منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کیلئے اچھی خبر، پاکستان کے سب سے بڑے ڈیم کے چوتھے توسیعی منصوبے نے بجلی کی پیداوار شروع کردی،منصوبہ اپریل میں مکمل ہوا لیکن پیداوار کیوں نہ شروع کرسکا؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 11  جون‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں بہتری اورپانی کی دستیابی کے بعد تربیلا چوتھے توسیعی منصوبہ کے پہلے یونٹ نے 8جون سے بجلی کی پیداوارشروع کر دی ،یہ یونٹ اپنے ریلائی ایبلٹی پیریڈ سے گذر رہا ہے اور نیشنل گرڈ کو اوسطاً 335 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ مذکورہ یونٹ کو بتدریج اِس کی پوری پیداواری صلاحیت یعنی 470میگاواٹ پر لے جایا جائے گا۔

منصوبے کا پہلا یونٹ اپریل میں مکمل ہوا تھا، تاہم رواں سال دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کافی کم رہا اور پانی کی عدم دستیابی کے باعث اِس یونٹ سے بجلی کی پیداوار شروع نہیں ہوسکی تھی ۔تربیلا چوتھے توسیعی منصوبے کے دوسرے یونٹ کی بھی تین روز قبل ویٹ کمیشننگ شروع کی جاچکی ہے ۔ یہ یونٹ جولائی کے پہلے ہفتہ میں ریلائی ایبلٹی پیریڈ کے مرحلہ میں داخل ہو جائے گا ۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے تحت تربیلا ڈیم کی سرنگ نمبر4پر بجلی پیدا کرنے کے لئے 3 یونٹ نصب کئے گئے ہیں اور ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت470میگاواٹ ہے ۔تربیلا چوتھا توسیعی منصوبہ واپڈا کے کم لاگت بجلی پیدا کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، جس سے ملک میں بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے اور قومی نظام میں پن بجلی کا تناسب بہتر بنانے میں مدد ملے گی تاکہ بجلی کی قیمتوں میں استحکام لاکر صارفین کو ریلیف فراہم کیا جاسکے ۔تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کی تکمیل پر تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی پیداواری صلاحیت میں ایک ہزار 410 میگاواٹ اضافہ ہوگا اور یہ 3 ہزار 478 میگاواٹ سے بڑھ کر 4 ہزار 888 میگاواٹ ہو جائے گی ۔منصوبے سے ہر سال 3 ارب 84 کروڑ یونٹ سستی پن بجلی حاصل ہوگی ۔ منصوبے سے سالانہ تقریباً 30 ارب روپے کی آمدنی ہوگی اور یہ صرف 3 سال کی قلیل مدت میں اپنی تعمیر پر آنے والی لاگت پوری کردے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…