منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت نے گزشتہ پانچ سالوں میں کتنے ڈیم بنائے ؟ اور ن لیگ کی حکومت کے دور میں پاکستان میں کتنے ڈیم بنے؟ انتہائی افسوسناک تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 10  جون‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ 70سال میں ڈیم نہ بننے کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت کیساتھ توا نائی کی شدید کمی کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے، گزشتہ پا نچ سال میں حکمرانوں کے ذاتی ایجنڈے کی وجہ سے ملک میں دیر پا ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں بن سکا۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بادینی ڈیم،

برج عزیز ڈیم، مارا تنگی ڈیم، بلک ڈیم، بابر کچھ ڈیم، کرم تنگی پراجیکٹ ٹو اورزیم ڈیم کی تعمیر کیلئے (ن) لیگ کی حکومت نے صرف زبانی جمع خرچ کیا اورعملی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے قوم کے اربوں روپے ضائع ہو گئے۔ دیا مر بھاشا، داسو پر اجیکٹ، گولان گول، گومل زام اور مہمند ڈیم کیلئے بھی فنڈز جاری نہ ہوسکے ۔ اس کے مقابلے میں بھارت نے صرف دریائے سندھ پر 14چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر لئے ہیں جبکہ دریائے چناب پر مزید 24 ڈیموں کی تعمیر جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے اوربارش کا محتاج ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں سڑکوں، پلوں، میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں آبی ذخائر تعمیر کرنے کی ضرورت ہے، جتنا پیسہ ان منصوبوں پر خرچ کیا جاتا ہے اس کا ایک چوتھائی حصہ بھی ڈیموں پر خرچ کیا جائے تو پاکستان میں زراعت کو فروغ ملے گا، پانی کی کمی دور ہوگی اورسستے نرخوں وافر مقدار میں بجلی دستیاب ہونے کے ساتھ ہماری صنعتیں بھی ترقی کریں گی ۔ انہوں نے کہا کہ صنعتیں چلیں گی تو برآمدات میں اضافہ ہوگا اورپاکستان ترقی کرے گا ۔ مطالبہ ہے کہ آنے والی حکومت آبی ذخائر کی تعمیر کیلئے ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کرے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…