جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان صرف 30 دن کیلئے پینے کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے،یہ صلاحیت کتنی ہونی چاہیے؟ صورتحال انتہائی الارمنگ ہے، ن لیگ نے الیکشن کمیشن کے نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کر دیا‘ اتنی بے یقینی‘ اتنی بے اعتباری کیوں ہے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 7  جون‬‮  2018 |

سولہویں صدی کے مشہور برطانوی مورخ تھامس (فولر) نے کیا خوب صورت فقرہ لکھا تھا اس نے لکھا تھا۔ انسان کو کنوئیں کی قدر اس کے خشک ہونے کے بعد ہوتی ہے، ہم آج جب بار بار پانی کی کمی کا واویلا سنتے ہیں تو ہم یہ شور کانوں میں مار کر چپ چاپ آگے نکل جاتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ ہمارے نلکوں میں آج بھی پانی موجود ہے چنانچہ ہم پانی پر بات کرنے والے ہر شخص کو بے وقوف سمجھتے ہیں جبکہ اصل حقیقت یہ ہے پاکستان کا کنواں خشک ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے‘

پاکستان پانی کی قلت کے شکار پہلے تین ملکوں میں آ چکا ہے‘ ہم 1990ء میں ان ملکوں کی صف میں شامل ہو ئے جن میں آبادی زیادہ اور پانی کم تھا‘ ہم نے وارننگ کو سیریس نہ لیا‘ ہم 2005ء میں پانی کی قلت کے شکار ملکوں میں آ گئے‘ ہم اس وقت بھی سیریس نہ ہوئے‘ ہم اب قلت آب کے شکار پہلے تین ملکوں میں شامل ہو چکے ہیں لیکن ہم آج بھی سیریس نہیں ہیں‘ اس صورت حال کا اگلا مرحلہ خشک سالی ہے‘ ملک میں اگر یہ حالات جاری رہے تو ہم 2025ء میں قحط کے دروازے پر کھڑے ہوجائیں گے‘ کیا ہم اس کا انتظار کر رہے ہیں‘ پاکستان صرف 30 دن کیلئے پینے کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے جبکہ ہمارے پاس یہ صلاحیت 120 دن کی ہونی چاہیے‘ 1947ء میں ہمارے ہر شہری کیلئے 5 ہزار 6 سو کیوسک میٹر پانی ہوتا تھا‘ اب ایک ہزار کیوسک میٹر رہ گیا ہے اور یہ 2025ء میں صرف 8 سو کیوسک میٹر رہ جائے گا‘ پاکستان کو ہر سال 145ملین ایکڑ فٹ پانی ملتا ہے‘ ہم اس میں سے صرف 14 ملین ایکڑ فٹ پانی محفوظ کر تے ہیں‘ پاکستان کے 20 فیصد جی ڈی پی کا انحصار پانی پر ہے‘ صورتحال انتہائی الارمنگ ہے لیکن ہم اس کے باوجود سو رہے ہیں‘ میں سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں یہ ملک کا واحد ادارہ ہے جس نے اس صورتحال کی نزاکت کا احساس کیا اور آج ’’پانی کو عزت دو‘‘ کا نعرہ لگایا‘ کاش اللہ ہماری سیاسی جماعتوں کو بھی احساس دے دے‘

یہ بھی پانی‘ ماحولیات اور صحت کو اہمیت دے دیں‘ ملک میں انسان بچیں گے تو جمہوریت بچے گی‘ آپ پانی کو بھی جمہوریت سمجھ لیں‘ اس کی بھی حفاظت کر لیں‘ قوم آپ کا شکریہ ادا کرے گی‘ ہم آج کے موضوع کی طرف آتے ہیں، ن لیگ نے الیکشن کمیشن کے نامزد کردہ نگران وزیراعلیٰ پر عدم اعتماد کر دیا‘ اتنی بے یقینی‘ اتنی بے اعتباری کیوں ہے؟ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…