اسلام آباد(سی پی پی) اصغرخان کیس میں متعدد سیاسی رہنماؤں کے وکلا اورجاوید ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف سپریم کورٹ کی جانب سے طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔گذشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثارکی سربراہی میں دورکنی بنچ نے اصغرخان عملدرآمد کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران متعدد سیاسی رہنماؤں کے وکلا اورجاوید ہاشمی عدالت میں پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیس سے تعلق رکھنے والے کتنے لوگ عدالت پہنچے ہیں؟عدالت کو بتایا گیا کہ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی جبکہ خورشید شاہ کی جانب سے ان کے وکیل اعتزاز احسن موجود ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ میاں نوازشریف کہاں ہیں، انہیں نوٹس دیا تھا وہ کیوں نہیں آئے، یہ عدالت کا حکم ہے ہرکسی کو آنا پڑے گا، میاں نوازشریف کا پتا کرکے کوئی بتائے کہ وہ کہاں ہیں، نوازشریف آکربتائیں انہوں نے پیسے لئے ہیں یا نہیں۔ نواز شریف کو ہرصورت شامل تفتیش ہونا پڑے گا، اگر ان کے وکیل ہیں تو ان کو بھجوا دیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ممکن ہے نواز شریف اس وقت احتساب عدالت میں ہوں، ان کا ٹرائل میں پیش ہونا بھی ضروری ہے، نوازشریف وکیل کا بندوبست کررہے ہیں، وہ اپنے وکیل کے ذریعے پیش ہوں گے۔ حکومت نے فوجی افسران کا معاملہ پاک فوج کو ہی سونپ دیا ہے، وہ بھی اس معاملے کو اپنے قانون کے مطابق دیکھیں جبکہ اس کیس میں سویلینز کا معاملہ ایف آئی اے دیکھ رہی ہے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی صاحب یہاں موجود ہیں، ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے پیسے لیے تھے؟جس پر جاوید ہاشمی نے جواب دیا کہ انہوں نے پیسے نہیں لیے۔
جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ ‘میں نے 5 سال نیب کی عدالت میں کیس بھگت کر اس الزام کو کلیئر کیا۔جاوید ہاشمی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ انہوں نے کوئی پیسہ کا کوئی لین دین نہیں کیا، یہ الزام ہے جسے قطعی رد کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اس کیس سے کوئی تعلق نہیں لیکن اس کے باوجود نوٹس جاری کیا گیا۔جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ نیب کو بھی یہی بتایا،عدالت نے طلب کیا تو بس میں بیٹھ کر اسلام آباد پہنچا ہوں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بہت اچھی بات ہے،کرپشن کے خلاف کیسز میں آپ جیسے سیاستدانوں کو لیڈ کرنا چاہیے۔اعتزاز احسن نے موقف اختیار کیا کہ خورشید شاہ کو نوٹس ہوا مگر ان کا اس کیس میں نام نہیں ہے۔سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے عدالت سے استدعا کی کہ میرے کیس کا فیصلہ فوج نہیں عدالت کرے، جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ آپ درخواست دیں ہم اس کا جائزہ لیں گے۔ سپریم کورٹ نے تمام افراد کوہفتے تک تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔



















































