بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا۔۔ چیف جسٹس نے اہم کیس کی سماعت کے دوران کس اہم شخصیت کامقدمہ خود فوجی عدالت میں بھیجنے کا کہا تو اس شخصیت نے آگے سے کیا استدعا کر دی؟

datetime 6  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اصغرخان کیس میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ سپریم کورٹ پیش ۔آپ کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا، سابق آرمی چیف کا مقدمہ فوجی عدالت بھیج دیا ہے، چیف جسٹس، فوج نے میرا مقدمہ چلانے سے انکار کیا، درخواست ہے میرا مقدمہ آپ سنیں، مرزا اسلم بیگ، آپ درخواست دیں ہم جائزہ لینگے، ہمارا مقصد کسی کی تضحیک نہیں، چیف جسٹس کا سابق آرمی چیف

سے عدالت میں مکالمہ، اصغر خان کیس کی آئندہ سماعت لاہور میں کرنیکا اعلان، سابق آرمی چیف کو لاہور رجسٹری میں پیش ہونے کا حکم۔ تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے سابق آرمی چیف سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلے گا، سابق آرمی چیف کا مقدمہ فوجی عدالت بھیج دیا ہے اس پر مرزا اسلم بیگ کا کہنا تھا کہ اس وقت کے آرمی چیف نے میرا مقدمہ چلانے سے انکار کیا، میری درخواست ہے کہ میرا مقدمہ آپ سنیں جس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آپ درخواست دیں ہم جائزہ لینگے ، ہمارا مقصد کسی کی تضحیک نہیں ۔ ہم اصغر خان کیس کی آئندہ سماعت لاہور میں کرینگے آپ وہاں پیش ہوں۔واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا تھاکہ اصغرخان کیس کا فیصلہ اکتوبر دوہزار بارہ میں آیا۔ اب تک عملدرآمد کیوں نہیں کیاگیا۔ اٹارنی جنرل نے جواب کیلیے دودن کی مہلت مانگی تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ دودن نہیں رات ساڑھے دس بجے تک معلوم کرکے عدالت کو آگاہ کریں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے نظرثانی درخواستیں منظورکیں تو فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔ عدالت فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والے ذمہ داروں کا تعین بھی کرے گی۔ سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جو ادارے کیخلاف ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…