منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قرضوں کا حجم آئی ایم ایف بیل آ ؤٹ پیکیج کی گھنٹیاں بجارہا ہے‘ خواجہ حبیب

datetime 3  جون‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی ) ایران پاک فیڈریشن آ ف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورتحال خطرناک ہے ، مالی مشکلات کے پیش نظر آئندہ مالی سال پاکستان کو9 ارب ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضہ لینا پڑے گا، نگران حکومت اقتصادی آتش فشاں کو پھٹنے سے روکنے کیلئے ازسر نو پالیسی مرتب کر

ے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف تاجروں تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بیرونی قرض اور واجبات بڑھ کر 92ارب ڈالر ہوچکے ہیں،قرضوں کا حجم آئی ایم ایف بیل آ ؤٹ پیکیج کی گھنٹیاں بجارہا ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر بھی تین سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں، گرتے ذخائر کے سبب روپے کی قدر دو مرتبہ کم ہو چکی ہے، بیرونی قرضوں اور سرکاری مد میں28کروڑ64لاکھ ڈالر کی بھاری ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں مزید کمی ہو سکتی ہے۔ خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ پانچ سالوں میں (ن) لیگ کی حکومت معیشت کے استحکام سے زیادہ آئی ایم ایف کو خوش کر نے میں لگی رہی جس کی وجہ سے پانچ سال کے دوران روپے کی قدر میں بیس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، ڈالر119 روپے پر پہنچ گیا،(ن) لیگ کے پانچ سال جہاں معیشت کے دیگر شعبوں پر بھاری گزرے وہیں پاکستانی کرنسی کی وقعت بھی کم ہوگئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ روپے کی بے قدری کے باعث درآمدی خام مال کی قیمت بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر تیارہونے والی مصنوعات کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور ملک میں مہنگائی بھی بڑھتی جا رہی ہے،ایکسپورٹ بڑ ھانے سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھے جاسکتے ہیں ، ریفنڈ کی ادائیگی کیلئے خودکار نظام نہ بنایا گیا تو ایکسپورٹ سیکٹر ریفنڈز کے بوجھ تلے دب کر تباہ ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…